اسلام کوٹ کے نوجوان صحافی سدھیر راٹھوڑ سے ایک ملاقات

  996   بایوگرافی   December 13, 2018

تحریر

Dherminder Kumar Balach

August 4, 2018

سدھیر راٹھوڑ کاتعلق اسلام کوٹ سے ہے ان کا جنم 1993 میں لچھمن داس کے گھر ہوا والد ایک سکول ٹیچر تھے ان کی کڈنی میں سٹون ہونے کی وجہ سے ابو نے وقت سے پہلے رٹائرڈمینٹ لے جب میں میٹرک میں تھا تو والد صاحب کی ڈیتھ ہوگئی میں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی اور اس کے بعد ہماری فیملی گاؤں سے اسلام کوٹ شفٹ ہوگئی 
ہم دو بھائی ہیں بڑا بھائی پرائمری ٹیچر ہے بنیادی طور پر میرا تعلق متوسط گھرانے سے ہے جب 2005میں ہم گائوں چھوڑ کر اسلام کوٹ آئے تو حالات بہت کشیدہ تھے ابو کی تنخواہ صرف تین چار ہزار تھی جب کہ میرا بھائی بھی بی اے کر رہا تھا اور اس وقت میں نے پڑھائی کو الوداع کہ دیا اور حیدرآباد میں پیٹرول پمپ پر جاب کرنا شروع کردی اسی طرح میرے دو برس پڑھائی ڈسٹرب ہوئی جب میری مالی حالت ٹھیک ہونے لگے تو میں نے پھر سے پڑھنا شروع کیا اور میٹرک امتحان اے گریڈ میں پاس گیا انٹر شاہ لطیف ہایرسیکینڈری سکول سے کی اور بی اے ڈگری کالج عمرکوٹ سے فائنل کیا اب ایم اے سوشیالوجی کر رہا ہوں


میں نے انٹر کے دوران مختلف اخبارات میں آرٹیکل لکھے اور مجھے اپنی شہر کے مسائل پر لکھنے کا بہت حد شوق تھا اور اسی طرح 2014 میں میں نے ایک مقامی اخبار روزنامہ "عوامی سوچ" میں رپورٹر کے طور پر کام کیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے رائل نیوز میں اک سال کام کیا،روز نیوز میں بهی ہنر آزمائی کی مگر یہ چینل سندھ سے آنے والی خبروں پر توجہ نہیں دیتا تھا پھر میں نے سندھی چینل "دھرتی ٹی وی" جوائن کیا اور اس کے سندھی میڈیا کے بڑے چینل "سندھ ٹی وی نیوز" میں اور اس کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ لیول پر اردو چینل میں کام کررہا ہوں

اسلام کوٹ پریس کلب کے دوستوں کے ساتھ کام کیا مگر میمبرشپ نہ ملنے کے باعث میں نے اپنا علحدہ سے اسلام کوٹ میڈیا سینٹر کے نام سے میڈیا سینٹر کی بنیادی رکهی اور سات میمبران پر مشتمل میڈیا سینٹر کی یکم جنوری 2018 میں باڈی تشکیل دی جس کا صدر میمبران کی اتفاق رائے سے مجھے منتخب کیا گیا

صحافت میں پانچ برس کے اس سفر میں دو جھوٹی ایف آئی آر درج ہوئیں تھرکول پروجیکٹ میں کام کرنے والے ڈمپر ڈرائیورز کی احتجاج اور دھرنے کی کوریج دینے کے جرم میں ڈیوٹی مداخلت ڈیوٹی کا سرکاری کیس داخل کیا گیا ایک اور جگہ پولیس کی جانب سے ماہ رمضان کے دوران پولیس نے رشوت لے کر ہوٹلیں کھولنے کی اجازت دے دی میں نے پولیس کے ایسے عمل کو میڈیا کے توسط دکھایا اور اسلام کوٹ میں چلنے والی غیرقانونی منشیات فروشوں کے خلاف آواز بلند کی تو دوسری بار جهوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی اور اس کے بعد چند شرپسند عناصر نے انکائونٹر کرنے کی پوری منصوبہ بندی کی مگر میرے دوست اور سابق ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی اور مرحوم ہریش منجیانی نے میری بروقت مدد کی اور اس کے ساتھ ایف آئی آر بهی خارج کروائی گئی

اسی طرح وقتن فوقتاً مجھے صحافتی دنیا سے دور رہنے کے لیے سازشیں کی گئیں
آج اللہ کے فضل وکرم سےحق اور سچ کی جدوجہد میں اپنی صحافتی زمیداریاں اچھی طرح سے نبھا رہا ہوں

حالیہ تبصرے

  • Kalimallah
    December 16, 2018

    Kalimallah

    Jeet Hmesha Haq Or Sach Ki Hoti Hai.....

    Reply
  • Nandlal Rathore
    March 6, 2019

    Nandlal Rathore

    Great work dear sudheer Rathore

    Reply

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top