امر وِیر( شہید ) درشن رام منگی

  845   بایوگرافی   September 20, 2018

تحریر

Preetam Das Balach

October 8, 2018

پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا لہو گرم رکھنے کا یہی طریقہ ہر کھلاڑی کرتا ہے ۔چاہے کبڈی ہویا کشتی ،ملاکھڑا ہویا ملھ ،گلی ڈنڈہ ہویا گتکا،کرکٹ ہویافٹ بال مگرسب سے نِرالااور مشکل کھیل جمناسٹک اور اتھیلٹکس کاہے ۔
اس میں کھلاڑی اپنی جان کی بازی لگاکروہ کرتب کرتا ہے جسے سامعین دیکھ کرحیران وپریشان ہوجاتے ہیں ۔گاؤں کے سیدھے سادھے لوگ اس کھیل کو جادو سمجھتے ہیں کہ یہ آنکھ مُندرہے یعنی یہ جادوکاکھیل ہے جو ہورہاہے وہ ہوتا نہیں بلکہ طلسمی کھیل سمجھ کراسے جادوئی کھیل کہا جاتا ہے ۔مگر یہ حقیقتاًاصلی کھیل ہے جس میں کھلاڑی اپنی محنت تگ ودواور سالہاسال کی کٹھن مشقت کے بعد یہ فن اپنے زیرکرلیتاہے اس فن سے مستفید ہونے والے ہمارے گاؤں کے26سا لہ نوجوان درشن رام منگی کو اِس کھیل سے بے پناہ عشق ہوگیا۔ درشن رام نے 2007ء میں ہونے والے روہی میلے میں سٹارجمناسٹک کلب رحیم یارخان کے استاد میاں زاہد صاحب کوجب قلابازیاں کھاتے ہوئے دیکھاتواِس کے دِل میں ایسی اُمنگ کی دھارابہہ اُٹھی کہ جس کی لہروں میںیہ گُم ہوکر بہنے لگا۔یہ عشق کے اِس نرالے کھیل میں ایسامحو ہواکہ 
اُستادکے قدموں میں گِرکر کہنے لگاکہ استاد جی !میرے دِل ودماغ میں اس کھیل کا ہروقت بھوت سوار رہتاہے مجھے یہ گیم بے حد اچھی اور دِل کو لبھانے والی لگتی ہے ۔رات کوسوتے جاگتے اُٹھتے بیٹھتے آپکی اُلٹ پلٹ ہوامیں قلابازیاں اُچھلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں مہربانی فرماکر مجھے گیم میں شامل کرلیں۔

اُستادزاہد نے اس کی عاجزی اور پختہ لگن کودیکھ کر کہا درشن بیٹا!یہ کام ہے بڑا مشکل اوراِس کھیل کی قدرومنزلت کرکٹ جیسی نہیں جس میں تیرانام روشن ہویہ بازیگروں کاکھیل ہے کوئی بازی جیت کر منزل پہ پہنچتاہے توکوئی درمیان میں بازی ہارکریہ کھیل بیچ میں چھوڑ کر کلب سے چلاجاتاہے ، درشن رام نے ہاتھ جوڑ کرعرض گزاری کی کہ اُستاد جی !آپ چاہے جتنا بھی مجھے آزمائیں مگر میرے ارادے پہ آپ کی اِن ڈراونی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوگا ۔میں نے دِل میں ٹھان لی ہے جو عزم وارادہ کیا ہے وہ پورا کرکے اس کھیل میں مزید جان ڈال کر بہت بڑا چیمپئن بن کر آپ کا اور ملک و قوم کانام روشن کروں گا۔اُستادزاہد نے جب اس کی مدھر بھری سُریلی لگاتارچلنے والی زبان کو جب ایسی حالت میں چلتے دیکھاتو بس ! دنگ سارہ گیا اور کہابیٹا آؤ۔ تجھ میں مجھے شیریں سخن اور دِلی جذبہ دِکھائی دیتا ہے واقع تجھ میں وہ گُن ہیں جو کسی شاگرد میں نہیں دِکھتے مختصراًدرشن رام نے گیم اپنالی چنددِنوں میں دوسرے شاگرد وں سے اعلیٰ کارکردگی حاصل کرتا ہو ا ہر گیم میں آگے نکل گیا ۔جمناسٹک کے  40کرتبوں پے نمایاں کارکردگی حاصل کرلی ۔ہر جگہ میلوں ٹھیلوں اورشادی بیاہ میں ٹیم کے ساتھ تقریبات میں بغیر فیس کے جاکر اپنے فن کے ذریعے لوگوں میں داد  وصول کرتا ہو ا خوشیاں بکھیرتا تھا۔سرکاری تقریبات ہو ں یا دیگر یہ ہر کسی کے بُلاوے پہ چلاجاتا ۔یہ قومی ترانے کی دھن پہ ناچتا گاتاملی نغموں کی دھن پہ قلابازیاں کھاکر مہمانوں کو سلامی پیش کرتا۔

درشن رام نے اپنا کبیر جمناسٹک کلب بنایا ہمارے گاؤں بستی امان گڑھ میں 25ہندومسلم لڑکوں کوجمناسٹک کی تعلیم دیکرایسے چاق وچوبند لڑکے سُلجھائے کہنب جس سے وہ ہر جگہ سکول ،کالج ،یونیورسٹی میں اپنے فن کے ذریعے دادوصول کرتے ، ؁،چولستان میں ہولی ملن پارٹی پر DCOرحیم یارخان احمدجاویدقاضی اور DPOسہیل حبیب تاجک موجودہ DIGپنجاب کو حیران کرتے ہوئے 10,000انعام وصول پایا DCOسقراط امان رانا بھی درشن کے کرتب دیکھ کر داد دیتے ،MNAجاوید اقبال وڑائچ اور MNAمیاں امتیاز احمد بھی اس کے کھیل کو سراہتے ہوئے درشن کو داد دیتے اس کے علاوہ NGO'Sکے پروگراموں میں رحیم یارخان ،قلعہ دراوڑچولستان ،راجن پور،بہاولپور ،ملتان ،لاہور اوراسلام آباد کے علاوہ سندھ کے درباروں ،میلوں ،مذہبی پروگرامزمیں اعلیٰ کارکردگی دِکھاتے ہوئے لوگوں کی توجہ کامرکز بنتا رہا ۔جوں جوں اسے داد ملتی اِس کا شوق بڑھتا گیا دِن دُگنی رات چوگنی ترقی کی منازل طے کرتاہوابے پناہ ایوارڈز، اسناد،شیلڈز،میڈلز اور ٹرافیوں سے اپناچھوٹا سا کمرہ سجالیا۔آنجہانی درشن منگی نے جمناسٹک کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی گورنمنٹ خواجہ فرید کالج رحیم یارخان میں تھرڈایئر کا سٹوڈنٹ تھا۔اس نے کالج میں جمناسٹک ،جوڈوکراٹے،باکسنگ،دوڑ،نیزہ بازی،تن سازی ،سائیکل ریس ودیگر مقابلوں میں ہمیشہ ضلعی وڈویژنل سطح پر فرسٹ پوزیشن حاصل کر کے اپنے کالج کانام روشن کیا۔ 

9اگست کو اُستاد میاں زاہد نے کہادرشن رام لاہورمیں 11اگست اور 14اگست کوپنجاب چیمپئین شپ ہورہی ہے جس میں ہم سب حصہ لیکرنمایاں کارکردگی حاصل کر کے نیشنل لیول کو کراس کر تے ہوئے اولمپک میں جائیں گے۔اُستاد کے منہ سے اِس نے اپنے دِل میں دبی باتوں کا ذکر سن کر خوشی سے اچھل پڑااور ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے لپٹ گیا کہ اُستاد جی! آپ نے میرے دِل میں برسوں سے بسی ہوئی شوق کی اس بھوتنی کا دِل جیت لیا ۔بس میں یہی چاہتاتھا کہ کہ ایسا کوئی وقت آئے اور میں کُھل کر پرفارمنس کر تے ہوئے اپنے وہ تمام کرتب کر ڈالوں جسے لوگ دیکھ کر دُعا ئیں دیں اور اُن کی دُعاؤں کے صدقے میں اولمپک چمپیئن میں پہنچ کر اپنے ملک کا نام روشن کروں ۔مگر افسوس صد افسوس کہ ایسانہ ہوسکا۔
11اگست یومِ اقلیت پے لاہور میں پرفارمنس کرتے ہوئے ایسے کرتب کر دکھائے کہ شائقین اور کھلاڑ ی حیران و پر یشان ہوگئے کہ یہ لڑکا جن ہے یابھوت یا خلائی مخلوق جو اتنی تیزی و پُھرتی سے ہوا میں قلابازیاں کھاکر پھر اپنے پیروں پہ کھڑا ہوجاتاہے ۔ بس کیا بتاؤں! لاہور میں ہوک پڑگئی ۔کسی کی نظر کھاگئی یامالک کی مرضی ہی ایسی تھی ۔درشن جونہی جوش وجذبے اور اولمپک کے خوابوں کومدِنظر رکھتے ہوئے تن اور من سے پورا زور لگاتے ہوئے ایسا جمپ لگا یاکہ ہو ا میں کودگیا ۔کہتے ہیں کہ 20فٹ اُونچا جمپ لگا کر ہوا میں ایک قلابازی لگاکر دوسری قلابازی لگانے کی جستجومیں جونہی سامعین نے عش عش کرکے داد دیتے ہوئے شورمچایا جس سے درشن کے دل میں اتنی خوشی آئی کہ وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور گردن کے بل گر تے ہی دوبارہ اُٹھ نہ سکا ۔

اُستاد نے آوازلگائی بیٹا درشن اُٹھو ! آج سے تم اعلیٰ چیمپئن کے مالک ہو گئے ہو ۔مگر درشن تو گرتے ہی پیرالائز ہوچکا تھا گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر سخت چوٹ لگنے سے اپنی جگہ سے تِل بھر نہ ہل سکا ۔لوگوں کے دل کو ہلانے والا وہ تو ہلنے سے ہی قاصر تھا ۔اُستا د کی آسیں اُمیدیں دھری کی دھری رہ گئیں۔درشن رام کو میوہسپتال ایمرجنسی لاہور میں داخل کیا گیا ۔جہاں پر دس دن زیرِعلاج رہا مگر اس مرض کا علاج نہیں ہوا ۔درشن کے والد جیرام داس منگی نے کہا کہ میرے بڑھاپے کا سہار ا میرا لختِ جگرجب بسترِ مرگ پہ پڑا میری طرف دیکھتا تھا تو میری جان سی نکل جاتی تھی میں نے سوچا تھا کہ میرابیٹا بڑا کھلاڑی بن کر دنیا میں ملک کا نام روشن کرے گا ۔مگر میرے سپنے اُدھورے رہ گئے ہائے میرے نوجوان بیٹے کو کسی کی آہ کھاگئی جو ہوا میں اُچھلتا کودتا ہوا جھپٹ کر پلٹتاتھا ۔وہ لہوکو گرمانے کیلئے قلابازیاں کھاتا ہوااپنی ہنسی مسکراہٹ سے کرتب کرتا تھا مگر آج وہ بے بس ہوکر زندہ لاش بن کر جی رہاہے۔اگر یہ اُٹھ نہ سکا تو دیگر ٹیم کے میرے بچے حوصلہ شکنی کا شکا رہوکر یہ گیم چھوڑ دیں گے جس سے میرے بیٹے کا خواب اُدھورا رہے جائے گا۔ انھوں نے کئی بار حکومت پاکستان ،مخیر حضرات ،NGO'sودیگر اداروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ میر ے لخت جگر اوروطن کے سپوت روشن ستارے کو غیر ممالک میں مہروں کے ماہرین ،گردن او ر ریڑھ کی ہڈی کے سپیشلسٹ کو دکھا کر قوم کے اس سرمائے کو بچایا جائے ،مگر وہ بچ نہ سکا۔
20اگست کی شام درشن رام منگی زندگی کی بازی ہارگیا ۔لاہور سے اُس کا جسدخاکی جب بستی امان گڑھ رحیم یارخان چولستان پہنچا تو ہر آنکھ اشکبارتھی ۔جمناسٹک ٹیم نے پاکستانی پرچم کے ساتھ اپنے استاد کو سلامی پیش کی ۔آنجہانی کے تمام ایوارڈز ،میڈلز ،شیلڈزاوراسناد سجاکر جب مرتک شریر پاس رکھا تو دوست ،احباب اوررشتے داردھاڑیں مارکر کہنے لگے ۔
اے وطن کے جیالے تجھے سلام اے دیش بھگت تجھے پرنام
ماں تو بس پاگل ہی ہوگئی اور ابھی تک درشن کی یاد میں روتی پکارتی نڈھال ہوکر ادھ موئی سی ہوگئی ہے ۔
باپ نے کہا کہ بیٹا میرا کفن چھین کے جارہا ہے ۔پرماتما تجھے سرگ واسی کرے ۔تو امرویر(شہید) کہلائے گا کیونکہ تو نے اپنے وطن کی شان کو بڑھا نے کے لیے 11اگست یوم اقلیت اور14اگست کی تیاری میں جان کا نذرانہ پیش کرکے ہم سے بچھڑ رہاہے۔مگر تیری یادیں زندہ رہیں گی ۔اس طرح آہوں ،سسکیوں اورپاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ اس امروِیرکوتاریخی مقام پتن منارہ کے اقلیتی قبرستان میں دفن کیاگیا ۔مگر افسوس صد افسوس کہ! وطن کے اس جیالے سپاہی کے جنازے میں حکومتی عہداروں اور سیاسی نمائندوں میں سے کسی نے شمولیت اختیار نہ کی اورنہ ہی آج تک افسوس کیلئے آئے کیونکہ یہ ایک ہندو اقلیتی کھلاڑی تھا۔مگر علاقہ کے دوست واحباب جان پہجان والے مسلم بھائیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے افسوس کیا جس سے گھروالوں کو گہرے صدمہ سے صبر ملا۔آنجہانی کی آخری خواہش تھی کہ میری سمادھی (قبر )پہ میرے پیارے وطن پاکستان کا پرچم ہمیشہ لہراتارہے ۔
ہماری وزیراعظم عمران خان سے التماس ہے کہ آنجہانی دیش بھگت درشن رام منگی کی وطن سے محبت ،قومی جذبہ حب الوطنی اور اُس کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سپورٹس اینڈکلچر منارٹیز ایوارڈ کے علاوہ تمغہ امتیاز اورصدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازاجائے۔جس سے درشن کی آخری خواہش بھی پوری ہواور اُس کی آتما (روح) کو بھی شانتی ملے ۔ 

حالیہ تبصرے

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top