ہم کیا کرتے ہیں؟

  754   بلاگ   October 18, 2018

تحریر

Khaleek Kohistani

October 10, 2018

ہم عجیب لوگ ہیں، مواقع ضائع کردیتے ہیں، پھر انکی تلاش شروع کردیتے ہیں. ہم یہ ہرگز سمجھ نہیں پاتے کےجو گیا وہ واپس نہیں آتا اورجو واپس آیا وہ، وہ نہیں تھا جو گیا تھا.وہ کچھ اور ہی تھا. پھر بھی ہم سب کچھ گنوا دیتے ہیں.ہم وقت کیساتھ نہیں رہتے کبھی حسرتوں میں اور کبھی خوابوں میں زندہ رہتے ہیں. کبھی جیتے ہین، کبھی جینا چھوڑدیتے ہیں، ہم کیا کرتے ہیں.؟ 
ہم سے کیا کچھ چھن گیاجسکا ازالہ اور تخمینہ ہم لگا نہین سکتے، اس کھونے کی فہرست میں بہشت ایک بنا مانگے نعمت تھی. ہم نے کھودینے کے بعد اسکی تلاش شروع کی، ہم اپنی بہشت سے محروم ہوکر اپنی اہنی بہشت کے چکر میں ہیں. اپنی بہشت کے چکر میں اہنی زندگی جہنم میں گزار رہے ہین. ہماری بہشت کی قیمت دنیا کی دوزخ ہے، جو جتنی قیمت ادا کریگا اسکے لیئے معاوضہ اتنا ہی بڑا تیار ہے. ہم سب کچھ کریں یا نہ کریں لیکن گلہ ضرور کرتے ہیں. کیونکہ ہم سب انا کے بےجان گھوڑے پر سوار ہیں، جو اپنی مرضی سے سیر کرواتا اور پھر ایک جگہ لیجاکر گرادیتا ہے. ہم فاصلے طے کرتے ہیں لیکن سفر نہیں کٹتا. ہمیں پتہ نہیں ہوتا کے ہماری پوری زندگی کا سفر گھر سے قبرستان تک کا ہوتا ہے، اسپتالوں میں پیدا ہوکر گھر آتے ہیں اور اسپتالوں میں جان دیکر بھی گھر آکر آخری آرام گاہ قبرستان چلے جاتے ہیں. ہم مر مر کے مرتے ہیں. میں سوچتا ہون کے ہم آسانی سے کیوں نہیں مرتے. 
ہم اپنی بات خواہ وہ غلط کیوں نہ ہو، نہیں چھوڑسکتے.کیونکہ انا کا گھورا تیز ہے اور تندرست ہے، جو ہمیں ہرا دیتا ہے، ہم دوست کو چھوڑدیتے ہیں، بحث کو نہیں چھوڑتے. ہم جیتنے کی تمنا مین اپنا ساتھی ہار جاتے ہیں. ہم طاقت کے ذریعے سے لوگوں کو اپنا بناتے ہیں، اورمزے کی بات یہ ہے کے لوگ کبھی ہمارے اپنے نہیں ہوتے، لوگ صرف مفادات سے محبت کرتے ہیں. انسانوں سے محبت کرنا ہمیں آتا نہیں.ہم صرف ایک انسان سے محبت کرسکتے ہیں، وہ ہے" اپنا آپ". ہم خود سے محبت کرتے ہیں، اپنے قصیدے سنتے ہیں اپنا سب کچھ بناتے ہیں. .ہم صرف انسان ہونا قابل عزت نہیں سمجھ سکتے، ہم خود کو سید،شاہ، آرائیں، مغل، غزنوی سوری، غوری، مرہٹہ اور راجپوت سے متعلق کرتے ہیں اور فخر کرتے ہیں. 
ہم موسم کا گلہ کرتے ہیں ہم خدا کا گلہ کرتے ہیں، ہم وقت کی حکومت کا گلہ کرتے ہیں، افسر ماتحتوں کا گلہ کرتے ہیں، بچے ماں باپ کا گلہ کرتے ہیں، والدین اپنی اولاد کا گلہ کرتےہیں،سوال تو یہ ہے کے کون کس کا گلہ نہیں کرتا، ہر شخص شکوے شکایتوں کو سننے اور سنانے کے عذاب میں مبتلا ہے، اگر ہم گلہ چھوڑ دیں تو شاید ہم تعمیری دور میں داخل ہوجائیں.لیکن شاید ہمیں تعمیر نہیں بھاتی. ہم زندگی بھر زندہ رہنے کے فارمولے سیکھتے رہتے ہیں، جبکہ زندگی اندر سے ختم ہوجاتی ہے تو ہم بے بس ہوجاتے ہیں. کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا تو سیکھا ہی نہیں ہوتا. ہم مرتے نہیں، ہم مارے جاتے ہیں. زندگی اگر زندہ رہنے کی تمنا میں گزرے گی تو موت ایک مصیبت بن کے آئیگی اور اگر زندگی مقصد کیلئے گزرے گی تو موت قبولیت کی سند بن کے آئیگی. 
ہم ہر وقت بھاگتے پھرتے ہیں، افراتفری کا عالم ہے، دفتر کو جانا، دفتر سے جانا، ہم تیس سال کی نوکری میں اتنا سفر کرجاتے ہیں کے لوگ ابن بطوطہ اور مارکوپولو کے نام بھی بھول جائیں. اپنی عمر تاریکیوں میں کاٹنے کے بعد ہمیں حقیقت کے اجالوں سے ڈر لگتا ہے. ہم بہرحال بھاگتے رہتے ہیں، اور بہت مصروف رہتے ہیں، ہم ہر چمکتی ہوئی چیز کے تعاقب میں ہوتے ہیں. ہمیں چمکدار چیز کی لالچ ہوتی ہے. ہمیں کون بتائیگا کے لالچی ہمیشہ ڈرتا رہتا ہے، جس نے لالچ چھوڑ دیا وہ بس "لاخوف" اور "لا یحزنون" کی منزل میں داخل کردیا گیا.اور یہی فلاح کی منزل ہے. خدا کا راستہ ہے. 
مقاصد کی بھرمار نے ہمارے لئیے سکون کی قلت پیدا کردی ہے، ہم بہت سی زندگیاں گزارتےہیں اور اسی لئیے ہمیں بہت سی اموات سے گزرنا پڑتا ہے.ہم اگر ایک مقصد کے پیچھے چلیں تو موت کی کثرت سے بچ سکتے ہیں، کیونکہ جن لوگوں نے زندگی سے کچھ حاصل کیا یا زندگی کو کچھ دیا، وہ تمام لوگ ایک مقصد والے تھے، کیونکہ نہ کوئی انکو خرید سکتا ہے اور نہ کوئی خوف میں مبتلا کرسکتا ہے اور نتیجتاً وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہیں، بلکہ صرف وہی تو زندہ ہیں. لوگ تو زندگی میں مرجاتے ہیں اور وہ لوگ موت میں بھی زندہ ہیں. کیا ہم غور نہیں کرسکتے کے ہمیں ایک مقصد کے پیچھے بھاگنا چاہییے .... ہم کیا کرتے ہیں؟ 

Top