عورتوں کا عالمی دن اور صنفی مساوات

  484   بلاگ   March 11, 2019

تحریر

Darya Khan Sanjrani

October 21, 2018

انسان جیسے ہم سماجی جانور کہتے ہیں جانور سے مراد صرف کتے بلے نہیں ہوتے بلکہ جاندار مادہ یا پھر جان رکھنے والی چیز جیسے ہم جانور کہہ سکتے ہیں اور انسان سماجی جانور ہے۔ جانور تو جانور ہوتے ہیں لیکن انسان سماجی جانور کیوں ہے؟ کیونکہ انسان عقل رکھتا ہے انسانی بستیوں میں مجموعی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ملکر رہتاہے اس نے اپنا معاشرہ تخلیق کر رکھا جس میں وہ اپنی ضرورات کی تمام چیزیں تخلیق کرکے ایک دوسرے کو بہتر زندگی کے موقعے فراہم کرتے ہیں جس وجہ سے انسان سماجی جانور (Social Animal) سمجھا جاتا ہے۔
سوشل ایینیمل جیسے انسان کہا جاتا ہے میں اس انسان کے نر، مادی کی جنس پر بات کرونگا! جو انکے مابین سماج میں خیال کئے جاتے ہیں اس پر!

ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم فطرت ہیں
(جس طرح انسانی اعضاءُ نئی شکلیں تخلیق کرتے ہیں اس طرح مرد کا دماغ نئے تجربات اور فطرت کے نئے قوانین دریافت کرتا ہے جو بعد میں زندگی کا نیا قانون بن جاتے ہیں)
یہ بھی فیصلہ کر کرلیا گیا ہےکہ بچہ کی پیدائش میں عورت گھلانے والا مادہ اور انڈےکی زردی فراہم کرتی ہے اور مرد ہیت مہیا کرتا ہے جو غیر مادی ہوتی ہے۔اس میلاپ سی جین (Embryo) کی تخیلق ہوتی ہے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم فطرت ہیں جس میں عقل نہیں ہے۔
خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہر جسم "مولیکیول" کی اس باہمی جنگ کی وجہ سےپیدا ہوتا ہے جو اپنی بقا کے لئے لڑتے رہتے ہیں۔ یہ کے انسانی جسم اپنے اعضاءُ کے درمیان ہونے والی جنگ کا ثمرہ ہے۔  بائبل میں لیکھا گیا ہے کہ آدم پہلے انسان تھے' حوا ان سے پیدا ہوئیں اور چونکہ وہ مرد سے پیدا ہوئیں اس لئے آدم نے کہا "اسے عورت کہا جائے گا"۔
عورت کے ارتقاءُ میں اس کا پاؤں جھوٹا رہ جانا اس بات کی نشانی ہے کہ اسکا ارتقا مرد کے بعد میں ظاھر کیا جاتا ہے۔  جس وجہ سے کہا جاتا ہے عورت زمین سے زیادہ قریب ہے۔ عورت مرد کو خراب کرتی ہے ۔ وہ شیطان کا زرینہ ہے۔
روحانی معاملات سمجھنے کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ عورت کی فطرت مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ ذہنی طور پر عورت بچہ کی طرح ہوتی ہے اور یہ کہ مرد کے مقابلے میں عورت دماغی اور جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہے۔

" 'کمزوری' تیرا نام عورت ہے "

وغیرہ اس قسم کے تمام خیال فطرت کہ عین مطابق خلاف ہیں۔عورت انسان ہے اور عقل،سوچ اور فہم و تفہیم کے معاملات میں مرد اور سب انسان جو کچھ سوچتے ہیں وہی عورت سوچتی سمجھتی ہے۔ اگر ہم آپ سب جب عورت کو انسان سمجھنا شروع کرینگے تو عورت بھی وہی کچھ کرسکتی ہے اور وہ دنیا کا ایسا کون سا شعبہ نہیں جہاں وہ اپنے فرائض انجام نہیں دے رہی جو عام انسان کرسکتے ہیں اگر عورتوں کو سماجی برابری کی بنیاد پر آزادی دی جائے گی تو یقیناً ہمارا معاشرہ معاشی تنگی اور سیاسی طور بے نوائی سے چھوٹکارا حاصل کرسکتا ہے۔
عورت آزاد سماج آزاد

Top