پاکستان میں تبدیلی

  800   کالمز   October 21, 2018

تحریر

Darya Khan Sanjrani

October 21, 2018

عمران نیازی, کی حکومت کے بعد میں تعویل عرسے سے یہ سوچ رہا ہوں کے سالا! تبدیلی آخر ہے کیا؟ تبدیلی ہے کونسی بلا؟ جسکے آنے سے انقلاب برپا دیکھائی دینے لگ جائگا!
عمران کی حکومت آنے کے بعد میرے ذہن میں یہ سوال کیوں اٹھا اس سے پہلے کیوں نہیں اٹھا؟
اسکا سبب (Reason)میں آپ سے شیئر کرتا چلو کہ; اس کا سب. یہ ہے کہ میں بچپن سے ہی تبدیلی تبدیلی سنتا آرہا ہوں. اور اس تبدیلی کو مینے ویسٹرن(Western) کی جدید ٹیکنالاجی پراڈکشن کی نئے آنے والی صحولات میں ضرور محسوس کیا ہے. جسکے ہم آج ایکیسویں صدی میں بھی جسٹ تماشائی بنے بیٹھے ہیں. جسکے استعمال یا پھر (Usage) کو ہم تبدیلی نہیں کہہ سکتے!
لیکن جب سے 'خان صاحب' نے تبدیلی کا نعرا لگایا تب میں سمجھ گیا کہ یار اب یہ بندہ تو تبدیلی ضرور لائے گا.
خیر, خان صاحب کی مسلسل بھترین طریقے سے تبدیلی کے نعرے پر کی گئی جدوجھد (Struggle) آخر رنگ لائی اور وہ 2018ع کی الیکشن میں بڑی اکثریت کے ساتھ جیت کر وزیرِاعظم بن گئے اور خان صاحب نے اپنی پاکستان میں وفاقی حکومت بنانے میں کامیابی پائی
تبہی میں سمجھ گیا تھا کہ, بس اب تبدیلی آگئی اب پاکستان میں دودہ کی نہریں بہیں گیں. اب ہر پاکستانی بندہ خوش و آباد ہوجائے گا,غریب کا بچہ سکول جائگا,ہر پاکستانی اپنی صحتیابی کے نگمے گائگا کہ: "پاک پاک پاکستان صاف صاف پاکستان", اب یہاں پر نئی انڈسٹریزیز لگیں گی, جسمے ہر غریب کو بھترین روزگار ملے گا اور اچھی پیداوار کے ساتھ پاکستانی معشیت دنیا کے ساتھ اقتصادی کروبار کرکے سائنس و ٹیکنالاجی سے دوچار ہوجائگی اور پھر" ہم سب کی ہے پہچان پاکستان پاکستان" کی پوری دنیا میں گونجیں اٹھیں گی.
لیکن, آج میں بڑے افسوس و دکھ کے ساتھ 'نانا پاٹیکر' کا ڈائلاگ کہتے کہوں گا کہ " کا کریں سالا ایک مچھر آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے".
یہاں پر اس ڈائلاگ میں ایک مچھر کی عکاسی کی گئی ہے لیکن, ہمارے پاکستان میں درجنوں مچھروں کے ٹولے ہیں. جس میں ہمارے مذہبی رہنما,تمام سیاسی لیڈران,پیر و فقیر,جاگیردار و سرمائدار, وغیرے جنکی پرسنٹیج (percentage) میں کوئی شماریات یا پھر ریاضی کا ماھر تو نہیں لیکن جنرل بات کرتے پرسنٹیج نکالوں تو شاید انکی پرسنٹیج 100% میں سے 10% پرسنٹ بھی نہیں ہوگی. لیکن وہی 10 پرسنٹ لوگ پوری پاکستانی عوام کو اپنے گٹیا قسم کے نظریے سنا کر چلتی ٹرک کے پیچھا لگا دیا گیا ہے. جس میں عمران خان صاحب کا کوئی قصور نہیں.
کیونکہ, پاکستانی عوام ان مچھروں کی وجہ سے تبدیلی چاہتی ہی نہیں ہے. تبدیلی چہروں یا پھر چیزوں کے بدلنے سے نہیں "سوچ" بدلنے سے آتی ہے.
جو سوچ چلتی ٹرک کے پیچھے بھاگنے سے کبھی بھی نہیں آنی.
خان صاحب یا پھر میں اور آپ سب بھلے ہے کتنے تبدیلی کے نعرے لگائیں تبدیلی کبھی نہیں آئگی.
اس لئے اگر آپکو اپنے ملک میں تبدیلی لانی ہے دنیا سے کندھا میلانا ہے تو سب سے پہلے آپ اپنی غلطیوں,مذہبی عقیدوں, اپنے کلچر رسم و روایات پر سخت تنقید کریں, تنقید و اختلاف کو ھزم کرنے کی طاقت رکھیں, پھر تبدیلی کا نعرے لگا کر ان تمام پسماندہ سوچ سے چھوٹکارا پاکر نیا ادم تحفظ نظام قائم کرکے ہر انسان کو بنیادی ضرورات کی آزادی دے دیں, تبہی ہم ہمارا پاکستان دنیا کے ساتھ کندھا ملا سکتا ہے.
نہیں تو پھر وی وہی ہوگا کہ "جسکی لاٹھی اس کی بھینس".

Top