ہیر رنجھا کی محبت کی کہانی

  1075   ثقافتی   September 25, 2018

تحریر

ThePakVoice Team

January 1, 2018

 

 قصہ ہیر رانجھا !
تخت ہزارہ کے بارے میں قیاس ہے یہ شہر موجودہ سرگودھا کے جغرافیہ میں واقع کوٹ مومن کے قریب ایک قصبہ تھا مگر کسی زمانے میں یہ شہر ایک ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا اس لیے اسے تخت ہزارہ کہتے ہیں.
تخت ہزارہ میں نواب بہلول لودھی کے زمانہ میں دھیدو یعنی رانجھا پیدا ہوا ،  رانجھا ایک کسان کا بیٹا تها اپنے آٹھ بھائیوں میں سب سے چھوٹا اوررانجھا اپنے باقی بھائیوں کے برعکس سارا دن بانسری لئے کھیتوں اور کھلیانوں میں آوارہ گردی کرتا رہتا۔
رانجھا ابھی جواں سال ہی تھا کہ باپ کی وفات ہو گئی ، بھائیوں نے وراثتی زرخیز زمین اپنے اور سیم زدہ دھیدو کے حصے میں کردی
ایک دن رانجھے کی بھائیوں نے اسے طعنے دیے کہ وہ بھی بھائیوں کے ساتھ زمین کی کاشتکاری  کرے ، آوارہ گردی نہ کرت مفت نہ بھیٹا کرے ۔ یہ طعنہ رانجھے کو غم زدہ کر گیا اور وہ گھر سے نکل آیا۔
دریائے چناب کنارے ایک قصبے جھنگ میں پہنچا جہاں رات بسر کرنے کیلئے اس نے ایک مسجد میں پناہ لی ۔ سونے سے پہلے اس نے مسجد میں ہی بانسری بجانا شروع کی تھی تو امام ِ مسجد دوڑے آئے اور خبردار کیا مسجد میں بانسری شرعیت کی رو سے حرام ہے ۔
سب سویرے رانجھا جھنگ گاوں میں کچھ کام کاج ڈھونڈے نکلا ، اس نے جھنگ گاؤں کے کھیت میں سر سبز و شاداب فصلیں دیکھیں ، جابجا بھینسوں کے باڑے نظر آئے ۔
ایسے سیال قبیلے کے سربراہ چیچک سیال نے بطور بھینسوں کی رکھوالی کے لیے رکھ لیا.
وارث شاہ لکھتے ہیں ایک دن رانجھا جب چناب کنارے پہنچا اور کسی مطلب دریا پار کرنے کے جتن کرنے لگا تو اسے ایک کشتی نظر آی ، پھولوں سے سجی کشتی میں کوئی مسافر یا ملاح نہ تھا ۔
رانجھے کشتی میں سوار ہو کر بھیٹا ہی تھا کہ ہیر اپنی سہلیوں کے ساتھ اچانک نمودار ہوی ، ہیر وہ جس کا چہرہ چاند رخ ، سرخ ہونٹ و سپید دانت اور سارے جھنگ میں سیالوں کی دھی رانی سے مشہور و ممتاز تھی ، نوابی غرور و تکبر میں رانجھے سے مخاطب ہوی اور اپنی کشتی پر بھیٹنے کی رانجھے کی جرت پر سوال کیا ۔
مگر جب رانجھے نے اسکی چندھیا دینے والے ماہ رخ پر نگاہیں کیں اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے لگا تو ہیر رانجھے کی آنکھوں کی تاب نہ لا سکی اور سخت لہجہ اب نرم پڑ گیا ، غصیلے چہرے پر اب شرم کی سرخی نمودار ہوی یوں ہیر رانجھے کی رومانوی داستان کا آغاز ہوا ۔
چند برس تو ہیر رانجھا محبت کے نغمے خوب گاتے رہے 
یہ ملاقاتیں اور وصل کی گھڑیاں ایک دن ہیر کے چچا کیدو نے بھی دیکھ لیں
کیدو نے ہیر کے والد چیچک سیال کو سب محبت کی داستان سے آگاہ کیا چیچک سیال نے ہیر کو کم زات و بے حثیت رانجھے کی محبت کو چھوڑنے کا حکم دیا مگر اس نے جواب دیا ’’ رانجھے کو ہیر سے چوری نہی کیا جا سکتا ہے ‘‘۔

اب چیچک سیال نے معاملے کو سختی سے نمٹاتے ہوئے رانجھے کو اپنی جاگیر اور جھنگ سے نکل جانے کا حکم دیا اور ہیر کی شادی دوسرے نوجوان سعیدا سے کر دی ۔ یہ نکاح بغیر ہیر کے ایجاب و قبول کے زبردستی طے پایا ۔

رانجھا عشق کا گہرا صدمہ لئے خاص کر جب نکاح کا سنا تو جنگلوں کی طرف نکل گیا ، وہاں وہ چند جوگیوں سے ملا ۔ وارث شاہ کے مطابق گورو گورک ناتھ کے چیلے بالناتھ جوگی نے رانجھے کو جوگی بنایا تھاـ
کافی عرصہ بعد رانجھے کا جھنگ گاوں سے جوگی کے روپ میں گزر ہوا ، ہاتھوں میں کشکول لئے وہ ایک دن سعیدا کے گھر جو ہیر کا شوہر تھا دستک دی ۔ ہیر کی نند سہتی نے دروازہ کھولا اور جوان جوگی کو دیکھ کر حیران ہوی ۔

وارث شاہ لکھتے ہیں کہ ہیر بیمار تھی ، جھنگ کے سارے حکیم بےبس تھے کہ ایک جوگی جو طبیب تھا اگرچہ رانجھا ہی تھا جھنگ آ کر ٹھہرا ، جوگی چونکہ طیب و اسرارِ رموز علم سے آگاہ ہونے کیلئے مشہور ہوتے تھے ، سعیدا نے درخواست کی وہ اسکی بیمار بیوی کی عیادت کرے اور کچھ دوا تجویز کرے ۔

جوگی رانجھا مکان کو روانہ ہوا ، ہیر و رانجھا برسوں بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں میں اشک ( آنسو) لے آئے ، موقع پا کر سہتی نے دونوں کو فرار کروا دیا جو کہ اس ناجائز و غیر شرعی شادی کے خلاف تھی اور محبت کرنے والوں میں سے ایک ۔

ہیر و رانجھا فرارہوئے ہی تھے کہ مقامی راجہ کے سپاہیوں نے دونوں کو گرفتار کر کے راجہ کی دربار میں پیش کیا ، رانجھے نے قصہِ عشق الف سے لے کر ی تک راجہ کے زیر گوش کیا ۔

راجہ نے ہیر کے والد چیچک سیال کو دربار میں طلب کیا اور تفہیم و فہم سے معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی ، سیال قبیلہ کے سربراہ نے اپنے گناہ عظیم یعنی جعلی نکاح کا اعتراف کیا ، اور رانجھے سے ہیر کے نکاح کی حامی بھر لی ۔

وارث شاہ لکھتے ہیں ، خوشی کو زوال ہے ، محبت کو فنا ہے ، ہیر کا لنگڑا چچا کیدو جو اس قصہ عشق سے ہمیشہ حسد کرتا رہا اور چیچک سیال کو بھی جعلی نکاح کیلئے اس نے تیار کیا تھا اس فیصلے سے سیالوں کی ناک کٹ جانے کے جھوٹے غم میں!

جب شادی کی رات عین نکاح کے بعد جب رخصتی متوقع ہو رہی تھی ، اس نے ہیر کے سامنے زہر سے بھرے لڈو تھال میں رکھے اور دھوکے سے ایک ہیر کے منہ میں ڈال دیا ۔
زہر اثر کر گیا ، ہیر آنکھوں میں ہلکے سے آنسو لئے بنا تڑپے مگر حسرت لئے خالق حقیقی سے جا ملی ، رانجھے کو خبر ہوئی دوڑا آیا ، ہیر کا آدھ کھایا لڈو منہ میں لیا اور ہیر کے پہلو میں خاموشی سے سو گیا ۔

امرتا پریتم پہنجاب کی ترجمان شاعرہ ہیں ، آزادی کے وقت پہنجاب میں جو لہو بہا اس پر وہ وارث شاہ سے یوں ہمکلام ہوئیں!

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن

اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

کسے نے پنجاں پانیاں وچ دتا اے زہر ملا
تے اونہاں پانیاں دھرت نوں دتا زہر پلا

دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیاں چون
اج پریت دیاں شہزادیاں ، وچ مزاراں رونیاں
اج سبھے قیدی بن گئے، حسن عشق دے چور
اج کتھوں لیائیے لب کے، وارث شاہ اک ہور

Top