دیوالی کے دیپ

  1096   ثقافتی   November 8, 2018

تحریر

Preetam Das Balach

October 8, 2018

زمانہ ست یُگ کی یہ پرانی کتھا ہے کہ راجہ دسرتھ ایودھیا نگر ی میں راج کرتے تھے۔ جن کی تین رانیوں سے چار بیٹے اُتپن (پیدا) ہوئے۔رانی کشلیا کے بطن سے رام، رانی کیکئی سے بھرت اور رانی سمتریا سے لکشمن اور شتروگھن اُتپن ہوئے۔ جب راجہ دسرتھ وِردھ اوستھا(بڑھاپے) کی حالت میں پہنچے توانھوں نے رگُھو کُل ریت (خاندانی رسم) کے مطابق سب سے بڑے بیٹے رام چندرجی کو ولی عہد مقر کرنے کا اعلان کیا تو رانی کیکئی کی داسی (غلامہ) منتھر انے اپنی چکنی چیڑسی باتوں سے ورغلاتے ہوئے کہاکہ اے رانی!راجہ تجھ سے گُھور اپمان (زیادتی) کررہاہے جب رام راج گدی پہ بیٹھنے گا تو راج ماتاکا ادھیکار (حق) بھی رام کی ماتا کشلیا کے پاس ہوگا اور تم ساری عمرمیری طرح داسی بن کر جیوگی مگر رانی نے کہاکہ یہ تو رام کاحق ہے اور میں کیسے یہ بات منواؤں تو متھر ا نے کہا رانی تم اپنا پرانا قول راجہ سے مانگ لو جو تم نے اُسی وقت تو نہیں لیا مگر اب وقت ہے کہ رگُھوکل راجپوت خاندان اپنے قول وقرار کے پکے ہوتے ہیں تو رانی نے ایسا ہی کیا مگر راجہ اس بات پہ گہری سوچ میں پڑکر بے چین ہوگیا تو رام نے وجہ پوچھی تو راجہ خاموش رہا مگر کیکئی اورمنتھراکے ذریعے پتہ چل گیا کہ یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے تو رام نے ماں کی خوشی، بھائی کے پیار اور باپ کے قول کوپورا کرنے کیلئے راج پاٹ کے عیش و آرام کوچھوڑ کر 14سال بنواس جانے کی ٹھان لی تو رام کی پتنی سیتا نے کہاکہ
"اے پتی دیو!پتی کے بِن استری کا جیون ادھوراہے۔ آپ جنگلوں میں رہیں اور میں محلوں میں یہ ہونہیں سکتا"
 
:تو رام نے کہا
اے سیتا!میرے ساتھ جنگلوں بیابانوں میں فقیروں کی طرح رہنا خطرے سے خالی نہیں مگر سیتا نے ساتھ نہ چھوڑ ا اور بھائی لکشمن بھی بضد ہوکر تیار ہوگیا کہ بھائی میں آپ دونوں کی سیوا کروں گا اورآپ کے بغیر بھی میر ا دِل اِن محلوں میں رہنے کو نہیں کرتا تو یہ تینوں جنگل کی طرف چل دیئے۔
جب اِس دکھ بھری داستان کا پتہ بھرت اور شتروگھن کو چلا تو وہ ننہیال سے واپس آکر ماتا کیکئی سے کہا کہ اے ماتا تونے ہمارے پتا سمان بھائی ماتا سمان سیتا اورلکشمن جیسے پریمی بھائی کے ساتھ یہ ظلم و زیادتی کرکے بہت برا کیا اور راج پاٹ کو ٹھکرا کر شری رام کو واپس لانے کیلئے جنگل کی طرف چل دیا لیکن رام نہ مانے اورکہا کہ بھرت تم ضد مت کرو یہ میرے کھڑاؤ (لکڑی کے جوتے) لیکر تخت پہ رکھ کر راج پاٹ سنبھال کر پرجا(رعایا) کو سکھی رکھوتو بھرت نے ایسا ہی کیامگر خود فقیرانہ بھیس میں ایودھیانگری کے باہر جنگل میں جھونپڑی بناکر شری رام کی طرح زندگی گزارنے لگا۔ جب چودہ برس پورے ہوئے تو رام چندر جی مہاراج واپس ایودھیا میں آئے تو اُن کی آمد کی خوشی میں گھر گھر دیپ جلائے گئے رستوں اورچوراہوں میں مشعلیں جلاکر اُن کا سواگت کیاگیا اور گھر گھر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ہر طرح کی خوشی مناکر رام کو راجگدی پہ بٹھایا گیااور رام چندر جی نے حسب ِروایت اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے عہد کیاکہ آج سے میرا سمبندھ(رشتہ) اپنے پریوار نہیں بلکہ اپنی رعایا کے ساتھ جڑگیاہے۔میرا پریوار (خاندان) آج سے رعایا ہے میرادکھ سکھ ان کے ساتھ ہے آج سے میں رعایا کی خواہش کے مطابق راج کرکے اُن کی ہرطرح سے خوشحالی اور حفاظت کرنامیر ا فرض ہوگیاہے۔میں اپنے نجی کاموں میں اپنے سکھ اور پریوار کے سکھ کے لیے خزانے سے کوئی چیز لیکر خرچ نہیں کروں گا بلکہ عوامی بھلائی کے لیے سب کچھ قربان کرکے ایک نوکر کی طرح خیال رکھوں گا۔میں راجہ نہیں بلکہ عوامی خدمتگارہوں اگرمجھ سے کوئی غلطی ہویا راج صحیح طریقے سے نہ چل رہاہوتو بلاجھجک روک ٹوک کے ہرشخص مجھ سے اپنے گلے شکوے سناکراپنی رائے دے سکتاہے رام کے راجیہ میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے انصاف کا بول بالا تھا رام کے راجیہ میں انسانیت کا راج چلتا تھا۔ راجہ اور پرجہ میں کوئی بھید بھاؤنہیں تھا اسی طرح خوشیوں کے دیپ جلتے رہے اور ہنسی خوشی تہوار مناکر سب خوش تھے۔
 

 
مگر اس سال ہماری دیوالی پہ دیپ نہیں بلکہ دِل جلے کیونکہ ہماری بستی امان گڑھ رحیم یارخان کے 26سال نوجوان درشن رام منگی جوکہ جمناسٹک اور ایتھلیٹکس کاچیمپئن تھا۔جو 11اگست کولاہور میں پنجاب چیمپیئن شپ14اگست کی تیاری میں پرفارمنس کے دوران گِرکرزخمی ہوااور20اگست کی شام میوہسپتال لاہور میں پر لوک سِدھار گیا۔جب اُس کا جسدِخاکی ہماری بستی امان گڑھ رحیم یارخان پہنچاتو کبیر جمناسٹک کلب ٹیم نے پاکستانی جھنڈے سے اُس کو سلامی پیش کرکے اُس کا جنازہ اُن کے تمام ایوارڈ،اسناد،شیلڈزکے پاس رکھتے ہوئے ٹیم نے کہا۔ 
 
اے وطن کے جیالے تجھے سلام
اے  دیش بھگت تجھے پرنام
 
اسی طرح آہوں سسکیوں میں پاکستان زندہ باد  کے نعروں میں اِس دیش بھگت (وطن کے جیالے) نوجوان کو تاریخی مقام پتن منارہ کے اقلیتی قبرستان میں سپردِخاک کیاگیا، اِس وطن کے جیالے نوجوان کی آخری خواہش تھی کہ میری سمادھی (قبر)پر پاکستانی پرچم لہراتارہے۔تواُسکی خواہش کے مطابق اُس کی خوبصورت سمادھی تیارکی گئی۔
 

 
دیوالی کے دِن بستی کے تمام نوجوانوں نے اس کی سمادھی پر حاضری دیکر پاکستان کی خوشحالی اور بقاہ کیلئے دُعا کرتے ہوئے جلتے ہوئے دِلوں کے ساتھ دیوالی کے دیپ جلائے تاکہ اُسکی آتماکوشانتی ملے۔آنجہانی، درشن رام ملنسار،سوشل ورکر،دردِدِل رکھنے والا ملک وقوم کاعظیم کھلاڑی اورمحبِ وطن چیمپئین تھا جس نے ملک کی شان کیلئے اپنی جان کانذرانہ پیش کیا اِسی لئے ہماری حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ اُسکی خدمات،قومی جذبہ،حبِ الوطنی کے صلے میں سپورٹس اینڈ کلچرایوارڈ کے ساتھ صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے تاکہ اُسکی آتما (روح)کوشانتی ملے۔
 
اہلِ دِل اِنسان سی وِچہ دُنیا۔جنوں لو ک  کہندے   درشن رام منگی
کھیڈن والا کھلاڑی مشہور ہےَ سی۔نالے سجناں دا  سی د رشن رام سنگی
جو وی مِلیا انعام سب ونڈدیندا۔رکھدادِل وِچ نئیں سی  درشن رام تنگی
قوم ملک تے جاوید قربان ہویا۔    دُنیا چھوڑگیا

Top