جوشی فیسٹیول اور کیلاش کلچر

  545   ثقافتی   May 13, 2019

تحریر

Kashif Jamil

October 25, 2018

ڈھول کی تھاپ پر تھرکتے نازک بدن موسم بہار کی آمد کا پیغام دے رہے ہیں۔کبھی ناگن کی طرح بل کھاتا ہوا اندازِ رقص، تو کبھی ٹولیوں کی صورت میں ناچتی گاتی اپسرائیں بہار کی خوشی میں مست نظر آتی ہیں، ساتھ میں قبیلے کے وجیہ نوجوان بچے اور عمر رسیدہ بزرگ بھی گری(dancing place) میں محو رقص ہیں۔ سب لوگ اخروٹ کی سبز ٹہنیاں ہاتھوں میں ہلا ہلا کر موسمِ بہار کی آمد پر پروردگار کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
یہ ہے وادیِ کیلاش جسے کافرستان بھی کہتے ہیں۔ بہار کی آمد پر یہاں ہر سال 13-16 مئی کو چلم جشٹ یا جوشی فیسٹیول منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار وادی ِ بمبوریت، رمبور اور بریر میں کیلاش قبیلے کے لوگ بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔مگر بمبوریت میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا ذیادہ رش نظر آتا ہے۔ کیلاش قبیلے کے خوبصورت جوانوں اور من موہ لینے والی پریوں نما دوشیزاؤں کو رنگ برنگے خوبصورت لباس اور دیدہ زیب زیورات میں دیکھ کر جو سوال ذہن میں ابھرتے ہیں وہ یہی ہوتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ انکے لباس ایسے کیوں ہیں؟ انکے رسم و رواج کیسے ہونگے؟ دیکھا جائے تو آج کے تاریخ دان، انتھروپولوجسٹ اور محققین بھی اسکا درست جواب دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ کیلاش قبیلے کے بارے میں تاریخ دان، انتھروپولوجسٹ اور محققین مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ افغانتسان سے آئے ہیں۔ کچھ لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ لوگ سکندر یونانی کی باقیات ہیں جب وہ ان علاقوں سے گزرا تو اسکی کچھ فوج ادھر رہ گئی تھی۔ایسا مانا جاتا ہے کہ کیلاش قبیلے کے لوگ انہی فوجیوں کی اولاد ہیں۔ مگر چترال میں ہوئے آرکیالوجیکل سروے سے پتہ چلا ہے کہ کیلاش قبیلے کے لوگ یہاں پر سکندر یونانی سے بھی پہلے کے آباد ہیں۔ کیلاش قبیلے کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی یونانی لوگوں سے انکا تعلق ثابت نہ کرسکے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ ہندوازم کی قدیم شکل سناتن دھرم کے پیروکار ہیں تو کچھ کہتے ہیں کہ یہ مظاہر پرست ہیں۔ حتی کہ کئی محققین نے تو ان کو جرمن اور البانئین بھی قرار دے رکھا ہے۔
مگر اصل میں یہ کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ انکے لباس ایسے کیوں ہیں؟ انکے رسم و رواج کیسے ہیں؟ انکا مذہب، ثقافت زبان کلچر کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔
جس طرح اتنی ترقی کے باوجود انڈس ویلی کے رسم الخط کو پڑھا نہیں جا سکا اور نہ ہی اس پر کوئی حتمی رائے دی جا سکی ہے۔ اسی طرح کیلاش اتھنولوجی پر بھی کوئی حتمی رائے دینا خاصا مشکل کام نظر آتا ہے۔ اگر کیلاش لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ کون ہیں؟ تو اکژیت کا جواب یہی ہوگا کہ وہ یونانی النسل ہیں۔ اگر ثقافتی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسا جزوی طور پر درست بھی لگتا ہے۔کیونکہ کیلاش قبیلے کے بہت سے رسم ورواج، لباس،زبان اور طرزِ تعمیر قدیم یونانیوں سے ملتا جلتا ہے۔ انکے گھروں کے ڈیزائن قدیم یونانی طرز کے ہیں۔کیلاش زبان کے اندر بہت سے الفاظ یونانی زبان کے ہیں۔عورتوں اور مردوں کا لباس بھی یونانیوں جیسا ہے۔ انکا قربانی دینے کا طریقہ کار بھی قدیم یونانیوں جیسا ہے۔خود وائن تیار کرنے اور پینے کا کلچر کیلاش اور یونانیوں دونوں میں موجود ہے۔گھریلو استعمال کی جو چیزیں یونانی میوزیم میں ہیں لگ بھگ ویسی ہی چیزیں کیلاش میوزیم میں ملتی ہیں۔

لیکن بعض جگہوں پر کیلاش لوگوں کی تہذیب میں قدیم ہندو کلچر بھی جھلکتا ہے۔جیسے مہادیو جو ہندو مذہب میں سب سے بڑا اور طاقتور دیوتا سمجھا جاتا ہے کیلاش قبیلے میں اسکو مہاندیو یا مالوش کے نام سے جانا جاتا ہے۔جسکے آگے مختلف موقعوں پر بکروں کی قربانیاں دی جاتی ہیں۔کیلاش قبیلے میں موسمِ بہار کی آمد کی خوشی میں جوشی کا تہوار اور ہندوؤں میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ جس طرح باوری ہندو قبیلے میں ہولی کے موقع پر لڑکے لڑکیاں ڈھول بجاتے گاتے اور ناچتے ہوئے گھر گھر جاکر مکھن پنیر روٹی کھاتے ہیں، یہی رسم کیلاش قبیلے میں بھی جوشی کے موقع پر دہرائی جاتی ہے۔ہندوؤں کی طرح کیلاش لوگ بھی خونی رشتوں میں اور اپنی ذات میں شادی نہیں کرتے۔بلکہ پانچ چھ نسلوں میں بھی ذات نہ ملتی ہو تو ہی شادی ممکن ہے۔کیلاش قبیلے میں نوے فیصد سے زائد شادیا ں پسند سے کی جاتی ہیں اور کلچر کے مطابق بھاگ کر کی جاتی ہیں۔
قبائلی ہندوؤں کی طرح کیلاش قبیلے میں بھی بہت سی توہمات پائی جاتی ہیں جیسے کہ اگر جوشی کے تہوار پر اگر کوئی ناچتے ہوئے زمین پر گر جائے تو تصور کیا جاتا ہے کہ وہ اگلے جوشی تک زندہ نہیں رہے گا۔ عورتیں مخصوص ایام اور بچے کی پیدائش پر بشالنی(ایک الگ مخصوص مقام جہاں مردوں کو جانے کی اجازت نہیں) پر چلی جاتی ہیں ایسا سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس حالت میں خاندان کے ساتھ رہیں گی تو قبیلے پر کوئی بڑی مصیبت یا آفت آن پڑے گی۔اسی طرح جنات کو خوش کرنے کے لیے بھی کیلاش قبیلے میں بیشمار رسم و رواج پریکٹس کیے جاتے ہیں۔
کیلاش لوگوں کی کوئی مذہبی کتاب یا مستند لٹریچر موجود نہیں ہے۔یہ لوگ صدیوں سے روایات پر چلتے آ رہے ہیں۔ جو سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کر دی جاتی ہیں۔رسم و رواج اتنے ذیادہ ہیں کہ بعض اوقات کیلاشی لوگ ان کی وضاحت بھی اپنے اپنے ڈھنگ سے کرتے ہیں۔ایک ہی سوال کے مختلف کیلاشی لوگ مختلف جوابات دیتے ہیں جو پوچھنے والے کو اور ذیادہ حیرت اور کنفیو ژن میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ تو ایک طرح کا دیومالائی کلچر ہے جو بے شمار رسم و رواجوں سے بھرا ہوا ہے۔جو کسی محقق یا سیاح کو اپنے جادوئیسحر میں جکڑ لیتا ہے۔ جوں جوں تفصیلات میں جاتے جائیں گے یہ مزید کنفیوژ کر دے گا اور اسکا سحر کسی طلسم کی طرح طاری ہوتا جائے گا۔
جوشی فیسٹیول کے ایک ماہ پہلے سے ہی وادیِ کیلاش کے تمام ہوٹل بک ہو جاتے ہیں بعض اوقات تو دس ہزار روپے فی کمرا ایک رات کے وصول کر لیے جاتے ہیں۔اس لیے کیلاش کا سفر کرنے سے پہلے تمام جانکاری جمع کر لیں۔ ہوٹل کے خرچ سے بچنے کے لیے کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے۔اپنی گاڑی یا جیپ سے لاہور سے کیلاش تک کا سفر چوبیس گھنٹے کا ہو سکتا ہے۔ انتہائی دشوار گزار راستو ں میں لواری ٹاپ شامل ہے جو بھولی ہوئی تمام دعائیں یاد کروا دیتا ہے۔ سڑکیں تو برائے نام ہیں مقامی لوگوں نے خود ہی بمبوریت، رمبور اور بریر جانے کے لیے خود ہی راستے بنا رکھے ہیں۔ان راستوں پر صرف یہی لوگ ڈرائیو کر سکتے ہیں۔کیلاش تہذیب اگر اپنی اصلی حالت میں موجود رہی ہے تو اسکی وجہ بھی یہی انتہائی دشوار گزار راستے ہیں۔جو کسی کی پہنچ کو ان دادیوں تک ناممکن بنا دیتی رہی ہوگی۔
تاریخی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈسٹرکٹ چترال پر بہت سال پہلے کیلاش لوگوں کی حکومت تھی مگر بعد میں ان کو دشوار گزار دادیوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ایسا سلوک ماضی میں ہندوؤں کے قدیم قبیلے بھیل کے ساتھ بھی سندھ میں ہوا تھا۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں یہ اکلوتا مظاہر پرست قبیلہ ہے جو قدرت کے مظاہر کی پرستش کے علاوہ اپنے دیوی دیوتا بھی رکھتا ہے۔ جو ذیادہ تر یونانی اور ہندو دیوی دیوتاؤں سے ملتے جلتے ہیں۔ کیلاش لوگوں کی اپنی کوئی روزانہ کی دعا یا نماز نہیں ہوتی،بلکہ سال کے چاروں موسموں میں تہوار منائے جاتے ہیں جو ان کے لیے عید یا کرسمس کی طرح مقدس ہوتے ہیں۔مئی میں جوشی فیسٹیول، اگست میں ا’چاؤ اور دسمبر میں چوموس منایا جاتا ہے جس پر ذیادہ تر مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ مقامی لوگوں کے اعتراضات اور ناپسندیدگی کی وجہ سے کیلاش قبیلے نے کچھ رسومات ختم کر دی ہیں جن کی تفصیل یہاں مناسب نہیں۔

جوشی فیسٹیول کی آمد پر موسمِ بہار کی آمد پر خدا کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کیلاشی لوگ گھروں کو، ٹیمپلز کو اور مویشی خانوں کو تازہ پیلے پھولوں (شاخوں سمیت) سے سجایا جاتا ہے۔ کیلاشی حسینائیں اس موقع پر خوب سجتی سنورتی ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔عام طور پر کیلاشی لڑکیاں دریا کے کنارے بیٹھ کر اپنے بالوں کو گندے بیروزے سے خوب دھوتی ہیں۔اور بیٹھے بیٹھے کپڑوں سمیت غسل بھی کر لیتی ہیں۔ اس دوران ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق اور خوش گپیاں بھی جاری رہتی ہیں۔ بالوں کی پانچ خوبصورت چوٹیاں بنائی جاتی ہیں۔ اپنے روایتی کالے لباس پر خوبصورت رنگوں کا کام بھی کیا جاتا ہے مضبوط کمر بند اور اور سر پر ٹوپی(شوشک اور کھوپسی) انکے حسن میں اور اضافہ کر دیتے ہیں۔گلے میں رنگارنگ موتیوں اور سیپیوں کی ڈھیروں مالائیں انکو کسی اور دنیا کی مخلوق بنا دیتی ہیں۔ اس دن تمام کیلاشی خود کو اپنی تیار کردہ وائن سے محظوظ بھی کرتے ہیں۔
ْقاضی(مذہبی رہنما) کے اعلان کے ساتھ جوشی کا آغاز کیا جاتا ہے۔ پہلے دن شرک پیپی(دودھ پینے) کی رسم ادا کی جاتی ہے۔لڑکے لڑکیاں ڈھول بجاتے ہوئے گاتے ہوئے مویشی خانوں کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں پر دودھ بانٹا جاتا ہے۔جگہ جگہ رک رک کر رقص بھی کیا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ پھولوں کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔ مختلف وادیوں میں اس رسم کو ایک یا دو دن کے فرق سے منایا جاتا ہے۔
اگلے دن چھوٹک جوشی یا چھوٹا جوشی منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ڈھول کی تھاپ پر تمام کیلاشی مرد و خواتین بچوں اور بزرگوں سمیت گری(رقص کی جگہ) پر اکھٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر سیاح پہلے ہی گری میں اپنی جگہ سنبھال لیتے ہیں تاکہ سار ی تقریب میں اچھا ویو ملتا رہے۔ یہ رقص دوپہر ایک بجے کے قریب شروع ہوتا ہے مگر سیاح وہاں صبح نو بجے سے ہی جمع ہونا شروع کر دیتے ہیں۔تمام کیلاشی لوگ قاضی کے پیچھے ہاتھوں میں سبز ٹہنیاں لئے اونچی آواز میں گیت گاتے شور مچاتے ڈھول کے ساتھ گری میں داخل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی کیلاشی اپسرائیں رقص شروع کر دیتی ہیں۔ سینکڑوں کیمرے ایک اچھا شاٹ حاصل کرنے کے لیے حرکت میں آجاتے ہیں۔اس موقع پر جو لوک گیت گائے جاتے ہیں انکا ترجمہ کچھ یوں ہے۔ سردیوں کے موسم میں ہم اپنے گھروں میں برف میں پھنس کر رہ گئے تھے۔اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے اکتا چکے تھے، خدا کا شکر ہو کہ اس نے موسمِ بہار عطا کیا ہے اب ہم پھر باہر وادیوں میں گھوم پھر سکیں گے، اور نئی زندگی کو منا سکیں گے۔
بظاہر تو کیلاشی لڑکیوں کا اندازِ رقص ایک جیسا لگتا ہے مگر ایسا ہے نہیں۔ رقص کی سب سے آہستہ طرز ڈوشک کہلاتی ہے جس میں لڑکیاں الگ اور لڑکے الگ کندھے سے کندھا ملا کر اپنا دایاں پاؤں آگے اور بایاں پاؤں پیچھے رکھتے ہوئے گول دائرے میں دائیں طرف پاؤں بڑھا کر رقص کرتی ہیں۔ ڈھول کی درمیانی تھاپ پر دراجیلک رقص کیا جاتا ہے۔ یہ نا تو ذیادہ تیز ہوتا ہے نہ ہی ذیادہ آہستہ ہوتا ہے۔ شگاتک میں لڑکیاں اپنے قبیلے یا ذات کی قطار میں ناگن کی طرح بل کھاتے ہوئے رقص کرتی ہیں۔
گندولی کی رسم میں لڑکیاں الگ گروپ بناتی ہیں اور لڑکے الگ گروپ بنا کر ہاتھوں میں اخروٹ کی ٹہنیاں لے کر قاضی کے پیچھے دعا کرتے ہیں اور اس موقع پر قاضی قبیلے کی سلامتی کے لیے بلاؤں کو ٹالنے کے لیے جنات سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی دعا کرتا ہے۔ پھر تما م لوگ سبز ٹہنیوں کو پھینک دیتے ہیں۔ جسکا مطلب نئی زندگی میں شمولیت ہے۔ آخر میں طاقت آزمانے کی رسم بھی ہوتی ہے جو یونہی ہنسی مذاق کے لیے ہوتی ہے اسکو دانگلے کہا جاتا ہے۔ اس میں لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو پکڑ کر خوب زور سے کھینچتےہیں اور ساتھ میں ڈانس بھی کرتے ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اگر کوئی دانگلے میں گر گیا تو وہ اگلے جوشی فیسٹیول تک زندہ نہیں رہے گا۔یہاں پر توہم پرستی کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ رقص کے آخری مراحل میں ہر قوم یا ذات کی لڑکیوں کی تعداد کو گنا جاتا ہے جو ذیادہ ہوتی ہیں وہ فاتح قرار پاتی ہیں۔
بڑے جوشی پر بھی اسی طرح رقص کر کے خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر عورتوں اور مردوں کے اوپر دودھ چھڑک کر ان کو پوتر بھی کیا جاتا ہے۔ سوشاؤ کی رسم میں قبیلے کی عورتیں گاؤں سے ذرا دور جاکر روٹی پکاتی ہیں جسے وہ خود کھاتی ہیں اور گھر کی عورتیں کھا سکتی ہیں کسی مرد کو یہ روٹی کھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔قبیلے کے بزرگ یا قاضی مردوزن پر دودھ چھڑک کر ان کو پوتر کرتے ہیں۔ اسی دن کیلاشی عورتیں پچھلے جوشی کے بعد نئے پیدا ہونے والے بچوں کو مویشی خانہ میں لاتی ہیں اور انکا صدقہ اخروٹ اور شہتوت کی صورت میں دیتی ہیں۔جبکہ یہی رسم کئی قدیم ہندو قبیلوں (میگھوال،بھیل، باوری)میں ہولی کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔
این جی اوز کے مالی تعاون سے اب کیلاشی لوگوں میں تعلیم کا رجحان بڑھ رہاہے۔بمبوریت میں کیلاشا۔د’ر۔ کے نام سے ایک سنٹر قائم کیا گیاہے جس میں میوزیم،سکول، ہاسٹل، لائبریری موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کیلاشی بچوں کو کیلاشی استاد پڑھائیں تاکہ وہ ان کو کیلاشی کلچر درست طور پر ٹرانسفر کر سکیں اور اس کلچر کو بچایا جا سکے۔ کیلاشی لوگ غربت کی وجہ سے بہت تھوڑی زمین پر کاشتکاری کرتے ہیں عورتیں بھی کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ مرد ذیادہ تر چرواہے ہیں اور مویشی خانے سنبھالتے ہیں اور دودھ مکھن اور پنیر جمع کرتے ہیں۔ اتنے سادہ اور قناعت پسند لوگ ہیں کہ کئی دن تک محض قہوے اور روٹی پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ کیلاشی سماج میں عورت کو مرد سے ذیادہ اہمیت حاصل ہے۔یہاں تک کہ اگر پسند کی شادی کے بعد بھی اگر عورت چاہے تو اپنے شوہر کو چھوڑ کر پسند کی نئی شادی کر سکتی ہے۔بشرطیکہ نیا شوہر اس عورت کے پرانے شوہر کو اسکی شادی کا دوگنا خرچ ادا کریگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنا مرضی اصرار کریں یا لالچ دیں کیلاشی لڑکیاں کسی اجنبی کے ساتھ تصویر نہیں بنواتیں۔سولو تصویر پر بھی بیزاری کا اظہار کرتی ہیں اور منہ پھیر لیتی ہیں۔پچھلے دس بارہ سالوں میں طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے کافی لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا جس سے ان کی تعداد میں کمی ہو گئی تھی۔ کئی لوگوں نے اپنے آپکو پہاڑوں سے گرا کر ختم کر لیا اور کچھ نے راہِ فرار اختیار کر لی۔اسکے بعد ایک یونانی این جی او ورکر بھی اغوا کیا گیا اور انکی بکریاں بھی اغوا کی گئیں جن پر انکی گزر اوقات ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان وادیوں میں تبلیخ کی ممانعت ہے نیز آرمی اور دیگر خفیہ ایجنسیاں حرکت میں رہتی ہیں۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ہر کونے میں بیشمار خوبصورت کلچر موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو بھی پاکستانی سمجھا جائے اور اس کلچر کو بھی پاکستانی کلچر سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top