پشاور-روہن روزہ افطاری کا اہتمام کیسے کرتا ہے

  523   ثقافتی   May 14, 2019

تحریر

Dherminder Kumar Balach

August 4, 2018

روہن سرب دیال کا تعلق پشاور میں رہنے والی ہندو کمیونٹی سے اور روہن پرونشل یوتھ اسمبلی خیبر پختون خواہ میں منسٹر آف مینارٹی افئیرکی حثیت اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرونشل یوتھ اسمبلی کے توسط سے ہم بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ہندو، مسلم ،کرسیچن اور سکھ ملکر ہر ماہ رمضان کی آمد پر روزہ افطار ی کا اہتمام کرتے ہیں یوتھ اسمبلی کے تمام ممبران،سماجی ادارے اوراس کے ساتھ کچھ سماجی شخصیت اس نیک کام کو پورا کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ماہ رمضان میں ہم سب ملکر مختلف مقامات پرافطار کا اہتمام کرتے اس دفعہ ہم نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں روزہ افطاری کا انتظام کیا ہے۔ روہن سرب دیال اور ان کے تمام دوست اس بابرکت مہینے میں اپنی کاوشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے اس ملکر کے لیے کچھ کرنا چاہتے آج جو ہمارے ملک پر دہشتگردی،انتہاپسندی اورفرکابندی کے جو کالے بادل چھائے ہوئے ہیں ان تمام برائیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک ہوکر امن کی شمح روشن کرنی ہے تاکہ اس پاک دیس پر امن کی بارش ہو اور اس دھرتی پر پیار،امن اور بھائی چارے کی آبیاری ہو۔

روہن کا کہنا تھا کہ اس کام میں ہم سے زیادہ دلی سکون ان دوستوں کو ہوتا ہے جو اس طرح کے کاموں میں مالی مدد کرتے ہیں روہن سرب دیال پرونشل یوتھ اسمبلی کا حصہ 2013 میں بنے اس وقت پرونشل یوتھ اسمبلی کے پریزیڈنٹ ذیشان ہوتی،چیئرمین عابد عتوزئی، وائس چیئرمین عاصمہ عمر صاحبہ اور یوتھ ناظم عالی حیکم صاحب ان سب کے ساتھ ملکر پاکستان میں منائے جانے والے تہواروں پر بین المذاہب ہم آہنگی اوررواداری کے پروگرام کرتے عیدین،ہولی،دیوالی،کرسمس اور دوسرے مذاہب کے مذہبی تہواروں کو بھی ملکر مانتے ہیں جیسے سے مذہبی ہم آہنگی اور پرامن معاشرے کا قیام ممکن ہے۔اس کے ساتھ میرا فرض ہے کہ اپنے مذہبی اور سماجی زمینداری بخوبی انجام دوں اس دھرتی کا سپوت ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کرتا رہوں تاکہ پاکستان پوری دنیا میں امن پسند ملک کے نام سے پکارا جائے۔
روہن سرب دیال 2014 سے اپنے والد محترم ہارون سرب دیال کے ساتھ اس طرح کی سماجی اور معاشرتی خدمت اور پرامن پاکستان کے اس مشن میں شامل ہیں روہن کا کہنا ہے کہ انسانیت کی خدمت امن کا پرچار اور ایثاروقربانی کا مادہ میرے خون میں سمایا ہوا ہے کیونکہ یہ جذبہ مجھے میرے والد سے ملا ہے جس کو میں اپنی آخری سانس تک ادا کرتا رہوں گا۔

Top