تین سال میں نامکمل گرلز سکول کی بلڈنگ بچوں کا مستقبل تباہ

  883   ایجوکیشن   October 25, 2018

تحریر

Dherminder Kumar Balach

August 4, 2018

سکول کی بلڈنگ ہم قدم نام کی این جی او نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس سے سکول کی عمارت تعمیر کرنے کے لیے آڈر حاصل کیے گئے .سکول کی تعمیر کے دوران زیرِ تعلیم بچوں کو مقامی زمیندار رئیس غلام رسول مہر کے ڈیرے پر عارضی طور پر ڈیڑھ سال تک سکول قائم کیا گیا جہاں پر سخت سردی اور گرمی میں بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی سکول کی ٹیچرکاکہنا ہے ہمیں اس ڈیرے پر کئی مشکلات بهی برداشت کرنا پڑی لیکن ہم نے سوچا کہ نیا سکول بن جانے سے ہم پہلے سے کچھ بہتر ماحول ملے گا جہاں ہم بچوں اچھے طریقے سے تعلیم اور تربیت کرسکیں. اس سال گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے سکول کی عمارت مکمل تعمیر کرکے دینی تھی لیکن ٹهکے دار اپنا کام ادھورا چھوڑ کر غائب ہو گیا ہے.

 


چند ماہ قبل ہم قدم کی طرف سے ایک میٹنگ  بلائی گئی جس میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر صادیہ پروین نے ، ہم قدم کے ڈی ایم او سلیم بخاری اور دیگر نے شرکت کی جہاں پر ہمیں بتایا گیا کہ آپ کے سکول کی عمارت خطرناک ہے لہذا آپ سکول میں تعلیمی عمل جاری نہ رکھیں کسی نا خوشگوار واقعہ کے زمیندار آپ خود ہوں گی. ہم نے وجہ پوچھی تو بتایا سکول کی عمارت میں ناقص میٹیریل استعمال ہوا ہے.


ڈیڑھ سال میں تیار کیے گئے اس سکول میں زیرے تعلیم  160بچوں کا مستقبل تباہ ہونے لگا ہے. سکول کی ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ جب تک اس سکول کا کوئی منصب حل نہیں نکلتا سکول فنڈ میں جمع رقم سے ہم برامدا بنا رہے ہیں جہاں پر ان سردیوں سے بچنے کے لیے بچوں کو تعلیم دی جائے.

 

ہم قدم ؟

اس سکول کی تعداد تعمیر سے پہلے 210تھی لیکن اب 160 طالبات زیرے تعلیم ہیں کیونکہ کچھ بچے سکول کی عمارت ناہونے کی وجہ سے دوسرے پرائیوٹ سکولوں میں چلےگئے.
والدین کا کہنا ہے کہ حکومت ہمارے بچوں کی زندگی کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور معصوم بچوں کے سکول میں کرپشن کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے اس ملک میں پہلے ہی ڈیڑھ کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اگر محکمہ تعلیم اس طرح سے آنکھیں بند کر کے ان مجرموں کا ساتھ دیتا رہا تو ہمارے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ پهر خدا کے ہاتھ میں ہے

Top