تھر میں قحط کی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی دکھ بھری داستاں

  924   سوشل   November 2, 2018

تحریر

Sudheer Rathore

October 30, 2018

تھرپارکر صوبہ سندھ کا صحرائی علاقہ (Desert Area) ہے ضلع تھرپارکرکی کل آبادی سولہ لاکھ ہے یہاں کے لوگوں کی ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مال مویشی پر ڈپینڈ کرتا ہے اگر بارشیں ہو جائیں تو تھرپارکر کسی وادیِ کشمیراور مری سے کم نہیں یہی وجہ ہے کہ جب بارشیں پڑتی ہیں اور ہرسو ہریالی چھا جاتی ہے تو ملک بھر سے لاکھوں سیاہ تھرکا رخ کرتے ہیں اور سندھ کے نامور شاعروں شاہ عبداللطیف بھٹائی شیخ ایاز راشد مورائی تاجل بیوس وہ دیگر شاعروں نے تھر کو اپنی شاعری کی زینت بنایا ہے مگر فطری حسن کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے بھی تھر پارکر مالا مال ہے گرینائٹ پتھر،چائنا کلی مٹی اور نمک کے مختلف اقسام کی کھانیں اور دنیا کا ساتواں بڑا کول کا ذخیرہ یہاں دریافت ہوا ہے۔ 

افسوس کی بات یہ ہے کہ گذشتہ چھ برسوں سے تھر میں بارشیں نہ ہونے کے باعث تھرپارکر نے اتھوپیا کی شکل  اختیار کر گیا ہے تھر پارکر جوکہ سولہ لاکھ سے زائد آبادی رکھتا ہے ضلع بھر کے لوگوں میں اکثریت کسانوں اور مال مویشیوں پالنے والے کی ہے بارشیں نہ ہونے کے باعث کھیتی باڑی نہیں ہو سکی اور چارہ پانی نہ ملنے کے باعث مال مویشی بھی مرنے لگی ہے جس کے باعث پچھلے چھ سالوں سے تھر کے باشندے شدید مشکلات کے باعث نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب تھر میں بوکھ بدحالی بیروزگاری کے باعث خودکشیاں جیسے سنگین واقعات میں دن بہ دن تیزی آ رہی ہے اک رپورٹ کے مطابق گذشتہ چھ سالوں میں 370 خودکشیوں کے واقعیات سامنے آئے ہیں جس میں 190خواتین 170 مرد اور 12کم عمر کے بچوں نے خودکشی کی ہے دوسری جانب پولیس رپورٹ کے مطابق خودکشیوں کے سبب اتفاقی اور دماغی توازن درست نہ ہونے کا سبب بتایا گیا ہے ۔ 

مگر حقیقتیں کچھ اور ہیں

چھاچھرو میں سماجی کارکن کیول میگھواڑ کی خودکشی کی خبر نے تھرتھراہٹ مچا دی جب ان کے جیب سے اٹھارہ صفحے پر مشتمل سوسائیڈ نوٹ برآمد کیا ہوا جس میں خودکشی کا سبب بتایا گیا تھا سماجی کارکن کیول کے جیب سے ملنے والے اس سوسائیڈ نوٹ میں لکھا ہوئا تھا کہ انہیں گاؤں کے وڈیرے جینے نہیں دے رہے کیوں کہ کیول نے گذشتہ عام انتخابات میں وڈیروں کی مرضی کے بغیر اپنے ووٹ کا حق استمال کیا تھا جس کے باعث وڈیروں نے کیول کا جینا حرام کیا تھا سوسائیڈ نوٹ میں کیول نے ان وڈیروں کے نام بھی لکھے تھے جس کی وجہ سے کیول کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا مگر پولیس نے وہ سوسائیڈ نوٹ نہ تو ورثاً کو دیا اور نہ ہی میڈیا کو دکھایا اور خوب کمائی کا ذریعہ بنا دیا اس خط کو.
اور اس خط میں کیول نے یہ بھی لکھا تھا کہ اس کی لاش تب تک دفن نہ کیا جائے جب تک ان وڈیروں کو پولیس گرفتار کرکے میرے خون کا مقدمہ درج نہ کرے مگر کیول کے غریب اہلہ خانہ پر وڈیروں نے اتنا پریشر دیا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ ملک بھر میں خودکشیوں کے سب سے زیادہ واقعیات ریکارڈ صرف تھر میں کیے گئے ہیں ۔ خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں مگر اس کی انویسٹیگیشن نہ ہونے کے باعث وہ کیس ڈوب جاتا ہے ۔

 

تھر میں سماجی تنظیم تھردیپ مائکرو فناس جوکہ قرضہ دے رہی ہے جس کی وجہ سے بھی لوگ پریشان ہیں قحطِ کے مارے تھری کوگ قرضہ تو اٹھا لیتے ہیں مگر ان کی قسط میں اگر تھوڑی سی بھی تاخیر ہوئی تو تنظیم کے ورکر ان کے گھر بیٹھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہالیہ میں ننگرپارکر تحصیل میں ایک خاتون نے خودکشی کردی تھی 

بچوں کی مھنگے موبائل فون کی فرمائشیں قحط کے مارے تھری لوگ کہاں پوری کر پاتے جس کی وجہ سے بھی دو بچوں نے خودکشی کردی تھی اسی طرح بیروزگاری قرضہ بدحالی اور وڈیرا شاہی کے باعث پچھلے چھ برسوں سے لے کر رواں برس تک 190 خواتین 170 نوجوان اور 12 کم عمر بچے اپنی زندگی گواں بیٹھے مگر حکومت کی جانب سے کوئی تھر پیکیج یا ہنگامی بنیاد پر ایسے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں جس کی وجہ سے ایسے واقعیات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

Top