شرح خواند گی اور حکومتی پالیسیاں

  329   سماجی   February 26, 2019

تحریر

Suhinder Lal

February 26, 2019

اکنامک سروے آف پاکستان۲۰۱۶-۱۷ کے مطابق ملک میں شرح خواندگی ۵۸ فیصد ہے۔ صوبوں کی سطح پر دیکھیں تو پنجاب میں شرح خواندگی ۵۹ فیصد، سندھ میں ۴۸ فیصد، خیبرپختونخاہ میں ۵۳ اور بلوچستان میں صرف ۳۳ فیصد ہے۔  پڑھے لکھے افراد کی زیادہ تعداد شہروں میں رہتی ہے جہاں یہ شرح ۷۴ فیصد جبکہ دیہات میں ۴۹ فیصد ہے۔

حکومت پاکستان اس وقت تعلیم پر خرچ کرنے والے جنوبی ایشیائ ملکوں میں سے کافی ممالک سے پیچھے ہے۔بھوٹان اس فہرست میں ۷۔۴ فیصد کی شرح سے سب سے آگے ہے۔ ہندوستان اپنے کل بجٹ کا ۳۔۸ فیصد، مالدیپ ۵۔۵ فیصد جبکہ پاکستان صرف ۲۔۶ تک خرچ کر رہا ہے۔ اس فہرست میں پاکستان صرف سری لنکا اور بنگلہ دیش سے آگے ہے جو بالترتیب ۲۔۲ اور ۱۔۹ فیصد اپنے ملک میں تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔

بی-بی-سی نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اساتزہ کی کم تنخواہیں ایک بڑی وجہ ہیں تعلیمی پست معیار کی۔ ہمارے تعلیمی نظام سے پرائمری پاس طالب علم کیا امریکہ ، انگلینڈ حتٰی کہ انڈیا تک کے طلبہ کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ آج مغربی ممالک میں ہندوستانی دماغ زیادہ نظر آتے ہیں جو ان کی پالیسیوں ، رویوں پر اثر انداز ہو کر پاکستان کے لیے اور بھی نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔

تعلیمی بحران اور پست معیار کی ایک اہم وجہ غیر واضح حکومتی پالیسیاں بھی ہیں۔ پنجاب جو کہ پاکستان کا آبادی کے لحاز سے سب سے بڑا اور شرح خواندگی کے لحاز سے سب سے پڑھا لکھا صوبہ ہے، یہاں بھی ہمشہ غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔ اس وقت سکولوں میں سالانہ امتحان جاری ہیں جبکہ یکم مارچ سے نئے تعلیمی سال کا آغاز کیا جانا تھا۔ لیکن اس ہفتے وزیر تعلیم پنجاب، مراد راس صاحب نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں یہ اعلان کرکے اساتزہ کو حیران کر دیا.  فروری میں چل رہے امتحانات پری اینول ہیں اور مارچ میں سالانہ امتحانات ہوں گے۔ جبکہ نیا سال یکم اپریل سے شروع کیا جائے گا. اس سے پہلے نیا تعلیمی سال یکم اپریل کی بجائے یکم مارچ سے شروع کرنے کی پوری تیاریاں کر لی گئی تھیں مگر اب صورتحال غیر واضح ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ریشنلائزشن کو لے کر بھی اساتزہ میں کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ کئی سال کے انتظار کے بعد تبادلوں سے پابندی اٹھنے پر اساتزہ اپنے آبائی علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں مگر اب پھر سے خدشہ ہے انہیں دور ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ اور پھر ریشنالائزیشن کن کی ہوگی؟ پرائمری اساتزہ یا تمام اساتزہ، یہ بھی ابھی واضح نہیں۔  بقول غالب

ہر روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوتا ہے

قصہ مختصر، جب تک ایک جامع اور واضح پالیسی اساتزہ کو نہیں دی جاتی اور ۷۰ ، ۷۲ سال سے جاری تجربات کو کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچایا جاتا۔ ممکن ہی نہیں کہ ملک میں تلعیمی معیار یا شرح خواندگی میں کچھ بہتری آ سکے۔

تمام اساتزہ کی نظریں ، ان کی امیدیں اس حکومت سے وابستہ ہیں۔ کیا واقعی محکمہ تعلیم میں کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں ملے گی یا تبدیلی صرف چہرے بدلنے تک محدود رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top