تبدلی کے ساتھ بهی آسانیاں پیدا کریں‎

  381   سماجی   March 2, 2019

تحریر

Ashok Kumar Solanki

February 1, 2019

اکثر ہم بیٹھے بیٹھے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ہماری پوری قوم اور ملک کس ڈگر پر چل پڑے ہیں آخر کیا چیز ہے جو ہمیں رشوت دینے،جهوٹ بولنے اورکام چوری پر مجبور کرتی ہے اور رشوت لےاوردیکرجهوٹ بول کر اور کام چوری کرکے کے فخر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے نہ ہونے والا کام غیر قانونی طور پر کرواآئیں ہیں ایک چهوٹی سی مثال لیجیے اگر ٹریفک سارجنٹ کسی کی موٹرسائیکل کو روک لے تو ہم چالان کے بدلے رشوت دے کر اپنا موٹرسائیکل چهوڑانے کو ترجیح دیتے ہیں اس کے علاوہ اگر پولیس کسی شخص کو پکڑ لے تو ہماری پہلی کوشش ہوتی ہے کہ عدالت اور وکیل کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے تھانیدار سے مک مکا کرکے اپنی جان چھڑا لی جائے 

آخر کیا وجہ ہے کہ ہم نے اپنی پورے معاشرے کو ذہنی بیماری میں مطلع کرکها ہے اور حق اور اور سچ کا فرق ہی ختم کردیا ہے خدا جانتا ہے ہم جس ڈگر پر چل پڑے ہیں آگر ہم نے ابھی بهی کچھ نہیں سوچا تو مجهے آنے والی نسلوں سے خوف آتا ہے ہم ایک فرعون کا معاشرہ تیار کررہے ہیں آپ مجهے سے بہتر جانتے ہیں کہ ایسے معاشرے پرخدا کیا غذاب نازل کرتا ہے خدا بڑا رحیم و غفور ہے ہم آج بھی اپنا رویہ اپنے قانون طور طریقے بدلنے پر غور کریں تو میرا ایمان ہے خدا ہمیں معاف کرنے والا ہے بس ہمیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے. 

اب گورنمنٹ کو ہر اس پروسس کو آسان کرنا ہوگا جس عام آدمی آسانی سے سرانجام دے سکے موٹرسائیکل ایک چهوٹی سی سواری ہے جس میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں بهی کئی گنا اضافہ ہورہا ہے اس کے ساتھ ایک بڑی تعداد کم عمر ڈرائیور اور بغیر لائسنس گاڑیوں کی تعداد بهی شامل ہے نہ تجربہ کار ڈرائیور،ہلمنٹ استعمال نہ کرنا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہر سال ہزاروں افراد قیمتی جانیں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور زخمیوں کے علاج پرکروڑوں روپےکاخرچ ہوتے ہے.

ایسا کیوں ہوتا ہےکیونکہ ایک شخص کو اپنا ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لئے ایک ہفتے تک مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں جبکہ اصل فیس کاپتا تک نہیں ایجنٹس مافیا سادا لوح عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں حکومت کی غیرسنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی کو ریلیف کی بجائے ذلیل کیا جاتا . اس کی وجہ ہمارے بوسیدہ سسٹم ہے جہاں پر ہمیں اپنا کام کوئی بھی سرکاری کام کروانا ہو تو رشوت دینی پڑتی ہے اس کے بغیر آپ کی کوئی بهی فائل دوسرے میز پر نہیں جاسکتی . یونین کونسل میں برتھ سرٹیفیکیٹ کے لیے 2000 روپے وصول کیے جاتے تهے جب اخبار میں اس مسئلے کی سرخیاں لگی تو اس کو نادرا کے ساتھ منسلک کرکے اس کی فیس 200 روپے مقرر کردی گئی جس سے عوام کو کچھ ریلیف اور یہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے 

حکومت کو چاہئے ڈرائیونگ لائسنس کے  حصول کے لئے ہر ضلع میں ایک سنٹر بنایا جائے جہاں پر ایک چھت کے نیچے ساری سہولیات فراہم کی جائے اور ڈرائیونگ لائسنس کی مناسب فیس مقرر کی جائے جدید دور کے طور طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آسانیاں پیدا کی جائے جس سے عام آدمی شارٹکٹ کی بجائے ایک قانونی طور اپنا کام سرانجام دے سکے. خیر اسطرح کی اور کئی مشکلات کی ایک لمبی فہرست موجود ہے جس پر ہم نے حکومت کی پالیسیوں اور پاکستان کے آئین کی بالادستی کے لیے اپنا فرض ادا کرنا ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top