یکساں نظام تعلیم-خان کا وعدہ اور میرا خواب

  583   سماجی   March 29, 2019

تحریر

Farhan Amir

March 28, 2019

معیاری اور یکساں نظام تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے، جہاں ریاست امیر اور غریب کے بچوں کو ایک ہی کتاب اور ایک ہی نصاب پڑھائے، یہ کیا انصاف ہوا کہ غریبوں کے بچوں کو جو کتابیں آٹھویں کلاس میں پڑھائی جاتی ہیں انگریزی سکولوں میں وہی کتابیں بچے دوسری جماعت میں پڑھ لیتے ہیں۔ اچھی اور معیاری تعلیم بہت سے مسائل حل کرسکتی ہے، جیلیں بھرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے سکول بھر دیں تاکہ خطے میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کو تعلیم کی جانب راغب کیا جاسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عام آدمی بھی حکمرانوں سے تعلیم کے متعلق ہر سطح پر آواز اٹھائیں تاکہ ملک سے نجی سکول مافیا کا جمود توڑا جاسکے۔ ضروری ہے کہ موجودہ فرسودہ نظام تعلیم کو دفن کرکے نیا مساوی نظام تعلیم لاگو کیاجائے کیونکہ معیاری تعلیم کی فراہمی سے ہی قومیں بام عروج تک پہنچتی ہیں۔

شہری باشعور ہوں تو انہیں اپنی شہری ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے، یہی بات کچھ عرصہ قبل ملک کی اعلیٰ ترین عدالت عظمیٰ نے بھی کہی کہ ایچی سن سے پڑھنے والوں کو تمام سہولیات میسر ہوں جبکہ غریب کے بچے کو کتاب سے بھی محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔ یہ تو سیدھی سیدھی آئین کے آرٹیکل 25/A کی خلاف ورزی ہے کہ غریب ذہین طالب علموں کی راہ میں رکاوٹ ہے، یکساں نظام تعلیم ایک کتاب، ایک بستہ وقت کی اہم ضرورت ہے جیسا کہ ہر نجی سکول کا اپنا علیحدہ نصاب، بالکل اسی طرح جس طرح نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹر صرف مخصوص کمپنی کی ادویات مخصوص میڈیکل سٹوروں سے خرید کروا کر کاروبار کو دام عروج بخشتے ہیں۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود نوے فیصد لوگ غریب عوام کے لئے مساوی تعلیم رائج کرنے میں کبھی سنجیدہ نہ ہوں گے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں تعلیم ایک بہترین کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے پھر سرکاری سکولوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور صرف اور صرف توجہ منافع پر مرکوز رہتی ہے۔ اصل میں بڑے سکول چلانے والے یا ان کے رشتہ دار ہی پارلیمنٹ میں موجود ہوتے ہیں، ملک مےں ہر طبقے کی مالی حیثیت کے مطابق تعلیمی ادارے موجود ہیں، کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ میں داخل ایک رپورٹ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ نجی سکول میں ایک ڈائریکٹر کی تنخواہ اسی لاکھ روپے تک ہے، اور یہ بھی عیاں ہے کہ جب سے تعلیم کاروبار بنی ہے تب سے تعلیم کا معیار بھی پست سے پست ہوتا چلا گیا کیونکہ غرض صرف حصول دولت جو رہی، مطلب غلام کے لئے الگ تعلیم اور آقاﺅں کے لئے الگ تعلیم کا بندوبست کررکھا ہے اور سب سے اہم بات کوئی نہیں جانتا کہ نجی تعلیمی ادارے اپنے بچوں کو کیا پڑھارہے ہیں، کون سی کتابیں، کون سا نظام رائج ہے جیسا کہ ہر نجی سکول کے لئے صرف ایک بار رجسٹریشن درکار ہوتی ہے وہ بھی صرف دس فیصد سکول کے پاس موجود ہوگی باقی سارے سکول بغیر رجسٹریشن اپنا کاروبار چمکائے ہوئے ہیں۔ ریاست کی سطح پر نجی سکولوں کے لئے کوئی نگرانی یا دیگر معاملات کا قانون ہی موجود نہےں، کوئی ادارہ ان پرائیویٹ سکولوں کی نگرانی پر مامور نہ ہے۔ اس پر ریاست کی فوری توجہ مبذول کرانا درکار ہے۔

قیام پاکستان کے بعد کئی عشرے گزرجانے کے باوجود ابھی ہم اپنی منزل کی جانب روانہ ہی نہ ہوسکے ہیں اور آج تک مفت تعلیم کی فراہمی اور اس کے فروغ کیلئے کبھی حکمرانوں کو سنجیدہ نہیں دیکھا گیا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ دار اور جاگیرداروں نے دانستہ کوشش کرکے ملک میں حصول علم کو غریبوں کے لئے آسان نہ رہنے دیا۔ گلی محلوں سے لیکر پوش ایریا کے رہائشی علاقوں میں نجی سکولوں کی بھرمار ہوچکی ہے مگر سستی اور معیاری تعلیم کی کسی کو پرواہ تک نہیں۔ بیشتر سکول خود کو انگلش میڈیم صرف اس لئے لکھتے ہیں کہ والدین سے من مانی فیسیں وصول کی جاسکیں۔ شاید اب قوم میں عوامی فلاحی بہبود کا ہر شعبہ کاروبار بن چکا ہے، مہذب دنیا اور ترقی یافتہ ممالک میں ایسے تمام شعبوں میں منافع کی شرح انتہائی کم ہوتی ہے جو عوامی خدمت سے منسلک ہوتے ہےں۔ اب ہمیں تعلیمی نظام سے تخلیقی شعور بیدار کرنے اور تمام سطحوں پر مساوی تعلیم اور اعلیٰ انسانی اقدار کی تربیت کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ درحقیقت وہی معاشرے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں جو مساوی تعلیم کو ہرافراد پر لاگو کرکے معاشرے کے ہر فرد کو یکساں علم حاصل کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔

Top