اندھیرے میں روشن چراغ

  400   سماجی   April 14, 2019

تحریر

Mirza Habib

April 12, 2019

13اپریل سانحہ جلیانوالہ باغ امرتسر کا ہیرو

البرٹ رمزے میسی سے کرنل عبدالرحمن موسی تک.

سانحہ جلیانوالہ باغ برصغیر کی تاریخ و سیاست میں جہاں ایک دلخراش باب ہے جب 13 اپریل 1919ء کو پنجاب کے گورنر مائیکل اڈوائر کے حکم پر برصغیر میں تعینات برطانوی فوج کے جنرل ڈائر نے نہتے بیگناہ انسانوں پر جو جلیانوالہ باغ میں بیساکھی کے میلے میں شریک تھے پر بغیر کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 337 افراد جابحق اور 1500 سے زائد زخمی ہوۓ
سامراجی قوتیں محکوم قوموں پر کس قدر ظلم و ستم کرسکتی ہیں انگریز حکومت نے جلیانوالہ باغ کے قتل عام سے ایک نئ داستان کو جنم دیا اس سانحہ کے بعد برصغیر میں انگریز حکومت کے خلاف نفرت بڑھی اور تحریک ترک موالات کی صورت میں برصغیر کے باشندوں نے انگریز حکومت سے نفرت کا اظہار کیا اور اس دور کے بنگال کے عظیم ادیب ،شاعر اور دانشور رابندر ناتھ ٹیگور نے ان الفاظ کے ساتھ جو انہوں نے وائسراۓ ہند کو خط کی صورت میں لکھے حکومت کی طرف سے سر کا خطاب واپس کر دیا

‏ "وہ وقت آگیا ہے کہ ایسے خطابات اور اعزازات کو حقارت سے ٹھکرایا جارہا ھے جہاں تک میری زات کا تعلق ہے میں ایسے اعزازات کے بغیر اپنے ہم وطنوں کے درمیان رہنا پسند کرتا ہوں جن کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہورہا ہے اور جن کی تذلیل ہورہی ہے اس لۓ میں لازما یہ التجا کروں گا کہ براہ کرم آپ تاج برطانیہ کی طرف سے مجھے عطا کیا ہوا یہ خطاب واپس لے لیں."

‏ اس سارے پس منظر کے بعد اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف جب گورنر پنجاب کے حکم جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں موجود نہتے انسانوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تو اس وقت برطانوی فوج کے برٹش فوجی آفیسر البرٹ میسی نے یہ کہہ کر گولی چلانے سے انکار کر دیا کہ وہ بلاقصور بیگناہ نہتے انسانوں کے قتل عام میں شریک نہیں ہوسکتا جس میں ہر عمر کے افراد اور خصوصا بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں جس کی پاداش میں ان کو حکم عدولی کی بنیاد پر فوج سے معزول کر دیا
برطانوی فوج سے معزولی کے بعد البرٹ میسی لاہور آۓ اور وہاں انکی ملاقات برصغیر کی دوسری بڑی اور امیر ریاست بہاول پور کے نواب صادق محمد خان عباسی سے ہوئی نواب آف بہاول پور نے ان کی فوجی مہارت کے سبب ان کو ریاست کی فوج میں عہدہ عطا فرما دیا
البرٹ رمزے میسی نے ریاست بہاول پور میں نواب آف بہاول پور کے حسن اخلاق اسلامی تہذیب و ثقافت کو دیکھ پرکھ کر اسلام قبول کر لیا اور البرٹ رمزے میسی سے عبدالرحمن موسی بن گۓ اور تاریخ ان کو کرنل عبدالرحمن موسی کے نام سے یاد کرتی ہے ‏
قبول اسلام کے بعد ان کی شادی بھی مسلم خاتون کے ساتھ ہوئی ‏
انسان دوست کرنل میسی کا انتقال غالبا دیرہ نواب (احمد پور شرقیہ) میں ہوا
‏ آپ کی اور آپ کی اہلیلہ کی قبریں نیشنل ہائی وے پر عباسیہ چوک سے احمد پور شرقیہ شہر کی طرف جانے والے راستے پر موجود یارے پیارے قبرستان میں واقع ہے
راقم الحروف مرزا حبیب جب سرائیکی وسیب کے عہد ساز گلوکار جمیل پروانہ صاحب جو اس قبرستان کے ساتھ ملحقہ آبادی میں رہائش رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے سبب اس علاقے کے کونسلر ہیں کے ساتھ ان کی نشاندہی پر کرنل عبدالرحمن موسی کے مزار پر پہنچا
کرنل عبدالرحمن موسی کا مزار وہاں موجود پختہ و نیم پختہ قبروں سے ہٹ کر سفید سنگ مرمر کی تعمیر کے سبب منفرد نظر آتا ہے کرنل موسی کے ساتھ ہی ان کی اہلیہ کی قبر ہے جمیل پروانہ صاحب نے بتایا کہ نواب بہاول پور نے مزار کے گرد خوبصورت کٹہرا بنوایا جو امتداد زمانہ اور دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب اسکا نشان تک مٹ چکا ہے قبر پر کوئی کتبہ نہیں ہے جس سے انکی تاریخ وفات کا اندازہ نہ ہوسکا اور دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب قبر کی حالت بھی خستہ حال ہے راقم حکومتی متعلقہ حکام سے گزارش کرتا ہے کہ تاریخ برصغیر کے اس عظیم انسان دوست ہیرو کی مزار کی تعمیر و مرمت کر کے اس قیمتی اثاثے کو محفوظ کرے تاکہ دھشت گردی کے شکار ملک کی آئندہ نسلوں کو امن اور انسان دوستی کا درس دیا جاسکے..

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top