وادٸ زیتون کا سفر

  178   سماجی   January 28, 2020

تحریر

Dr. Syed Muhammad Azeem Shah

January 27, 2020

گزشتہ سے پیوستہ

سکیسر کی دوسری منفرد جگہ وہ خوبصورت غاریں ہیں، جو یہاں کے لینڈ اسکیپ سے بلکل مختلف ہیں، انہیں ہم "Sakesar Caves" (سکیسر کی غاریں) کہہ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے اندر موجود یہ غار نما حصہ سکیسر بیس کی ایک سائیڈ پر واقع ہے۔ اس طرح کا لینڈ سکیپ پورے پاکستان میں میں نے کہیں نہیں دیکھا۔ بلا شُبہ اس کے حسن اور اس کی ساخت کو بیان کرنے سے میرا قلم قاصر ہے۔ یہ غالباًچونے کے پتھر سے بنی ہیں۔

پاک فضائیہ ائیر بیس کے اندر ایک اور تاریخی جگہ یہاں موجود پرانا مندر ہے جو سڑک کے بالکل کنارے پر واقع ہے۔ پرانے وقتوں میں یہاں ویساکھی کا تہوار زور و شور سے منایا جاتا تھا۔ جبکہ اس کے قریب بنے تالاب میں ہندو دھرم کے لوگ اپنے پاپ (گناہ) دھونے کی نیت سے اشنان (نہانا) کیا کرتے تھے۔ ایک زمانے میں یہاں کافی ہندو آیا کرتے تھے لیکن اب یہ مندر ایک ویران اور اجاڑ تاریخی عمارت کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس کے اندر جائیں تو اسکا خوبصورت فریسکو آرٹ ورک کسی بھی آرٹ کے دلدادہ شخص کا دل لُبھانے کو کافی ہے۔ کاش کہ اسے دوبارہ مرمت کر کے بچایا جا سکتا۔اس مندر کے اندر بنے بیل بوٹے اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاک فضائیہ کی تاریخ میں سکیسر ائیر بیس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے یہاں ایک چھوٹا سا میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم کیا ہے معلومات کا ایک خزانہ جہاں سکیسر پہاڑ اور اس کے اردگر کی تعمیرات کا ایک ماڈل، 1965 کی جنگ میں استعمال ہونے والے ریڈار اور دیگر آلاتِ حرب، 1889 میں لیڈی کیمبل ولسن کی لکھئ گئی کتاب کا عکس، ایک قدیم اور خوبصورت پیانو، سکیسر کے ریڈار کی تاریخ اور اس کی تعمیر اور پاک فضائیہ کے پرچم رکھے گئے ہیں۔

اس میوزیم سے ذرا نیچے کی طرف جائیں تو ''زپ لائن'' اور تیر اندازی کے لیئے ایک جگہ مختص کی گئی ہے جس سے محظوظ ہونے کا شرف ہمیں بھی حاصل ہوا۔
بیس کے اندر ہیلی پیڈ کے پاس ایک خوبصورت زیتون کا باغ واقع ہے جہاں قطار اندر قطار زیتون کے درخت ڈھلتے سورج کی روشنی میں شام کا ایک سحر انگیز نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس وادی کا حسن انہی زیتون کے درختوں کی بدولت ہے جنہیں دیکھ کر لیڈی کیمبل ولسن ان پر مر مٹی تھیں۔ اس باغ میں کوئٹہ اور مری سے لا کر چیری کے درخت بھی لگائے گئے ہیں۔

 

اوپر بیان کی گئی جگہوں کے علاوہ یہاں 1965 کی جنگ کی یادگارِ شہدا، ایک دستکاری کی خوبصورت دوکان اور ایک تالاب بھی موجود ہے۔
سکیسر ائیر بیس نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کے فضائی دفاع میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بلاشبہ یہ جگہ اور یہاں کے لوگ، فضا میں لڑی جانے والی ایک اہم جنگ کے عینی شاہدین ہیں ۔ ایم ایم عالم اور ان کے جہاز کو بھی اسی بیس کے ریڈار سے کنٹرول کیا گیا تھا جب انہوں نے بیک وقت چھ طیارے گرا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ جگہ بیک وقت دفاعی، سیاحتی، تاریخی اور سٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔
ختم شد

محمد عظیم شاہ بخاری

اپنا تبصرہ بھیجیں

.آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

Top